شانِ امام حسین رضی اللہ عنہ | ولادت، فضائل اور سید المرسلین ﷺ کی نوازشات

نواسۂ رسول حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادتِ باسعادت، فضائل و کمالات، حلیہ مبارک اور آقا کریم ﷺ کی نوازشات پر مشتمل ایک ایمان افروز مضمون پ
شانِ امام حسین رضی اللہ عنہ | ولادت، فضائل اور سید المرسلین ﷺ کی نوازشات۔ نواسۂ رسول حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادتِ باسعادت، فضائل و کمالات، حلیہ مبارک اور آقا کریم ﷺ کی نوازشات پر مشتمل ایک ایمان افروز مضمون پڑھیے۔
✍️ قلمکار
محمد عبد الواجد عطاری
📝 موضوع
شانِ امام حسین رضی اللہ عنہ
🏢 ادارہ
متعلم جامعۃ المدینہ آگرہ درجہ سادسہ

شانِ امام حسین رضی اللہ عنہ

اللہ تبارک و تعالیٰ سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 36 میں ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌؕ
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان و زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔

ان بارہ مہینوں میں چار مہینے حرمت والے ہیں جن کے بارے میں صراط الجنان میں اس آیت کی تفسیر کے تحت مذکور ہے کہ ان حرمت والے مہینوں میں سے تین متصل ہیں:
  • ذو القعدہ
  • ذو الحجہ
  • محرم الحرام
اور ایک مہینہ جدا ہے:
  • رجب المرجب
(صراط الجنان، تحت ھذہ الآیۃ)

معلوم ہوا کہ محرم حرمت والا، عظمت و شرافت والا مہینہ ہے۔ اس ماہ کی پہلی تاریخ کو اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا۔ اس ماہ کی دسویں تاریخ یومِ عاشورہ کے نام سے موسوم ہے، اس دن اللہ پاک کی بہت ساری نشانیوں کا ظہور ہوا، اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، اسی دن قیامت کا وقوع ہوگا۔

ماہِ محرم الحرام میں جہاں دیگر تاریخی و معجزاتی واقعات کی یادیں تازہ ہوتی ہیں وہیں نواسۂ رسولِ مقبول، جگر گوشۂ بتول، امامِ ہمام، امامِ عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے رفقاء کے کربلا کا دردناک واقعہ نظروں کے سامنے ہوتا ہے جو ہمیں صبر و استقامت، عبادت و ریاضت اور خلوص و للہیت کا درس دے رہا ہوتا ہے اور واقعۂ کربلا ہمارے لیے نمونۂ زندگی ہے۔

ولادتِ باسعادت

سید الشہداء حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادتِ باسعادت ہجرت کے چوتھے سال 5 شعبان المعظم کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔
(فضائل امام حسین، ص: 1)

سید المرسلین ﷺ کی نوازشات

پیارے آقا ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کو گھٹی دی، آپ کا نام ”حسین“ رکھا اور آپ کو اپنا بیٹا فرمایا۔
(مسند بزار، 2/315، حدیث: 743)

حضورِ اکرم ﷺ نے دو دنبوں کے ذریعے آپ رضی اللہ عنہ کا عقیقہ فرمایا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو آپ کا سر مونڈانے اور سر کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
(الطبقات الکبیر لابن سعد، 6/355)

فضائلِ امام حسین رضی اللہ عنہ

  • جنتی جوانوں کے سردار: حسنین کریمین رضی اللہ عنہما جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔
    (فضائل امام حسین، ص: 4)
  • دنیا کے دو پھول: حسن و حسین رضی اللہ عنہما دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔
    (شان حسنین کریمین مع عاشورہ کے فضائل، ص: 2)
  • سب سے زیادہ پیارے: سید المرسلین ﷺ سے پوچھا گیا کہ اہلِ بیت میں آپ کو زیادہ پیارا کون ہے؟ فرمایا: حسن اور حسین۔ اور حضور ﷺ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرماتے تھے کہ میرے پاس میرے بچوں کو بلاؤ، پھر انہیں سونگھتے تھے اور اپنے سے لپٹاتے تھے۔
    (فضائل امام حسین، ص: 6)
  • اللہ کی بارگاہ میں دعا: آقا کریم ﷺ نے اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کی: "اے اللہ! میں حسین سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے اس سے محبت فرما۔"
    (ترمذی، 5/427، حدیث: 3794)
  • شجاعت اور سخاوت: رسولِ کریم ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے عرض کرنے پر آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی وراثت سے شجاعت اور سخاوت عطا فرمائی۔
    (معجم کبیر، 22/423، حدیث: 1041)

مقامِ امام حسین رضی اللہ عنہ

ایک مرتبہ ایک جنازے میں شرکت کے بعد امام حسین رضی اللہ عنہ واپس تشریف لا رہے تھے تو آپ کو تھکاوٹ محسوس ہوئی اور آپ ایک جگہ آرام فرمانے کے لیے کچھ دیر بیٹھ گئے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی چادر سے امام حسین رضی اللہ عنہ کے مبارک پاؤں سے مٹی وغیرہ صاف کرنے لگے تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں منع فرمایا۔

اس پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: "اللہ پاک کی قسم! آپ کی جو عظمت و شان میں جانتا ہوں اگر لوگوں کو پتا چل جائے تو وہ آپ کو اپنے کندھوں پر اٹھالیں۔"
(امام حسین کے واقعات، ص: 7)

ضیا پاش چہرہ مبارک

حضرت علامہ جامی قدس سرہ السامی فرماتے ہیں: حضرت امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان یہ تھی کہ جب اندھیرے میں تشریف فرما ہوتے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مبارک پیشانی اور دونوں مقدس رخساروں سے انوار نکلتے اور قرب و جوار ضیا بار ہو جاتے۔
(ماخوذ از: کرامات امام حسین، ص: 3)

ہم شبیہِ مصطفیٰ ﷺ

آپ رضی اللہ عنہ نبی پاک ﷺ کے مشابہ تھے جیسا کہ حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خدا کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں:
"جس کی یہ خواہش ہو کہ وہ ایسی ہستی کو دیکھے جو چہرے سے گردن تک سرکار ﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ ہو وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھ لے، اور جس کی یہ خواہش ہو کہ ایسی ہستی کو دیکھے جو گردن سے ٹخنے تک رنگ و جسامت میں نبی کریم ﷺ کے سب سے زِیادہ مشابہ ہو وہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھ لے۔"
(معجم کبیر، 3/95، حدیث: 2768)

عمر شریف

بوقتِ شہادت سید الشہداء، امامِ عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک 56 سال، 5 ماہ اور 5 دن تھی۔
(سوانح کربلا، ص: 170)

ایک تبصرہ شائع کریں