صحتِ حدیث کا اصل معیار: بخاری و مسلم پر انحصار کے فکری مغالطے کا تحقیقی جائزہ
علمِ حدیث اسلامی شریعت کا ایک نہایت اہم اور بنیادی ماخذ ہے۔ اس حوالے سے غیر مقلدین، انجینئر مرزا جہلمی اور ان کے شاگردوں کی طرف سے عوام الناس میں کچھ غلط فہمیاں پیدا کی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ جو حدیث بخاری مسلم میں نہ ہو یا 'شیخین' (یعنی امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ) کی شرائط پر پورا نہ اترتی ہو، اسے ناقابلِ قبول یا مردود سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ موقف سراسر بے بنیاد اور علمِ حدیث کے بنیادی اصولوں سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔
علمِ حدیث کے ائمہ اور محققین کا اس بات پر مکمل اِجماع ہے کہ کسی حدیث کی صحت کا مدار صرف ”صحیح بخاری“ اور ”صحیح مسلم“ یا ان کی شرائط پر منحصر نہیں ہے۔ نہ تو امام بخاری اور نہ ہی امام مسلم نے کبھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دنیا کی تمام صحیح احادیث کو اپنی کتب میں جمع کر دیا ہے، یا یہ کہ ان کی کتب سے باہر کوئی حدیث صحیح نہیں ہو سکتی۔
علمِ حدیث کے ائمہ اور محققین کا اس بات پر مکمل اِجماع ہے کہ کسی حدیث کی صحت کا مدار صرف ”صحیح بخاری“ اور ”صحیح مسلم“ یا ان کی شرائط پر منحصر نہیں ہے۔ نہ تو امام بخاری اور نہ ہی امام مسلم نے کبھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دنیا کی تمام صحیح احادیث کو اپنی کتب میں جمع کر دیا ہے، یا یہ کہ ان کی کتب سے باہر کوئی حدیث صحیح نہیں ہو سکتی۔
امام بخاری اور امام مسلم کے اپنے اقوال
امام بخاری اور امام مسلم کے اپنے اقوال اس بات کی سب سے واضح اور ٹھوس دلیل ہیں۔ خود امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اپنا قول ہے، آپ فرماتے ہیں:
حَفِظْتُ مِنَ الصِّحَاحِ مِائَةَ أَلْفِ حَدِيْثٍ، وَمِنْ غَيْرِ الصِّحَاحِ مِائَتَيْ أَلْفٍ
ترجمہ: میں نے صحیح احادیث میں سے ایک لاکھ اور غیر صحیح میں سے دو لاکھ احادیث یاد کیں۔
(مقدمہ ابن الصلاح، ص 27، طبع: مکتبہ رحمانیہ لاہور)
مزید وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:
(مقدمہ ابن الصلاح، ص 27، طبع: مکتبہ رحمانیہ لاہور)
مزید وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:
مَا أَوْرَدْتُ فِيْ كِتَابِيْ هٰذَا إِلَّا مَا صَحَّ، وَلَقَدْ تَرَكْتُ كَثِيْرًا مِنَ الصِّحَاحِ
ترجمہ: میں نے اپنی اس کتاب (یعنی صحیح بخاری) میں صرف صحیح احادیث ذکر کی ہیں اور بے شمار صحیح احادیث میں نے چھوڑ دی ہیں۔
(کوئز اصولِ حدیث، ص 20، طبع: ضیاء العلوم راولپنڈی)
اسی طرح امام مسلم نے فرمایا کہ میں نے صحیح مسلم کا انتخاب 3 لاکھ احادیث سے کیا۔
(شرح صحیح مسلم سعیدی، ص 56، فرید بک اسٹال لاہور)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں:
(کوئز اصولِ حدیث، ص 20، طبع: ضیاء العلوم راولپنڈی)
اسی طرح امام مسلم نے فرمایا کہ میں نے صحیح مسلم کا انتخاب 3 لاکھ احادیث سے کیا۔
(شرح صحیح مسلم سعیدی، ص 56، فرید بک اسٹال لاہور)
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں:
لَيْسَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدِيْ صَحِيْحٍ وَضَعْتُهُ هٰهُنَا، إِنَّمَا وَضَعْتُ مَا أَجْمَعُوْا عَلَيْهِ
ترجمہ: میرے نزدیک جو بھی حدیث صحیح تھی، وہ سب میں نے یہاں درج نہیں کر دی، بلکہ میں نے اس کتاب میں وہ احادیث رکھی ہیں جن کی صحت پر اجماع یا اتفاق تھا۔
(تیسیر مصطلح الحدیث، ص 34، طبع: مکتبۃ البشریٰ کراچی)
یہ ایک سادہ سی منطق ہے کہ اگر امام بخاری کو ایک لاکھ صحیح احادیث یاد تھیں، اور 'صحیح بخاری' میں مکررات (تکرار) کے ساتھ تقریباً سات ہزار احادیث درج ہیں، اور امام مسلم کو 3 لاکھ احادیث یاد تھیں اور 'صحیح مسلم' میں تقریباً 7000 احادیث ہیں تو باقی ماندہ ہزاروں صحیح احادیث یقیناً دوسری کتبِ احادیث (جیسے سنن، مسانید، اور معاجم وغیرہ) میں موجود ہیں۔ لہٰذا یہ سمجھنا کہ بخاری و مسلم کے علاوہ احادیث صحیح نہیں ہیں، ایک صریح غلطی ہے۔
(تیسیر مصطلح الحدیث، ص 34، طبع: مکتبۃ البشریٰ کراچی)
یہ ایک سادہ سی منطق ہے کہ اگر امام بخاری کو ایک لاکھ صحیح احادیث یاد تھیں، اور 'صحیح بخاری' میں مکررات (تکرار) کے ساتھ تقریباً سات ہزار احادیث درج ہیں، اور امام مسلم کو 3 لاکھ احادیث یاد تھیں اور 'صحیح مسلم' میں تقریباً 7000 احادیث ہیں تو باقی ماندہ ہزاروں صحیح احادیث یقیناً دوسری کتبِ احادیث (جیسے سنن، مسانید، اور معاجم وغیرہ) میں موجود ہیں۔ لہٰذا یہ سمجھنا کہ بخاری و مسلم کے علاوہ احادیث صحیح نہیں ہیں، ایک صریح غلطی ہے۔
دیگر محدثینِ کرام کی تصریحات
ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن بن عثمان الكردي الشَّہْرَزُوري (متوفی 643ھ) اپنی شہرہ آفاق کتاب "مقدمہ ابن الصلاح" میں شیخین کے متعلق فرماتے ہیں:
لَمْ يَسْتَوْعِبَا الصَّحِيْحَ فِيْ صَحِيْحَيْهِمَا، وَلَا الْتَزَمَا ذٰلِكَ
ترجمہ: ان دونوں (امام بخاری اور امام مسلم) نے اپنی دونوں صحیح (کتابوں) میں ہر صحیح حدیث کا احاطہ نہیں کیا، اور نہ ہی انہوں نے ایسا کرنے کا التزام (ذمہ داری) لیا تھا۔
(مقدمہ ابن الصلاح، ص 26، طبع: مکتبہ رحمانیہ لاہور)
برصغیر کے مایہ ناز محدث شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
(مقدمہ ابن الصلاح، ص 26، طبع: مکتبہ رحمانیہ لاہور)
برصغیر کے مایہ ناز محدث شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
الْأَحَادِيْثُ الصَّحِيْحَةُ لَمْ تَنْحَصِرْ فِيْ صَحِيْحَيِ الْبُخَارِيِّ وَمُسْلِمٍ، وَلَمْ يَسْتَوْعِبَا الصِّحَاحَ كُلَّهَا، بَلْ هُمَا مُنْحَصِرَانِ فِي الصِّحَاحِ، وَالصِّحَاحُ الَّتِيْ عِنْدَهُمَا وَعَلٰی شَرْطِهِمَا أَيْضًا لَمْ يُوْرِدَاهُمَا فِيْ كِتَابَيْهِمَا، فَضْلًا عَمَّا عِنْدَ غَيْرِهِمَا.
ترجمہ: احادیثِ صحیحہ صرف صحیح بخاری اور صحیح مسلم ہی میں منحصر نہیں ہیں، اور نہ ہی ان دونوں ائمہ نے تمام احادیثِ صحاح کا احاطہ کیا ہے، بلکہ معاملہ یہ ہے کہ یہ دونوں کتابیں تو محض صحاح پر مشتمل ہیں (یعنی ان میں صرف صحیح احادیث ہیں)، لیکن وہ احادیثِ صحاح جو خود ان ائمہ کے پاس موجود تھیں اور ان کی مقرر کردہ شرطوں پر بھی پوری اترتی تھیں، انہیں بھی انہوں نے اپنی ان کتابوں میں روایت نہیں کیا، چہ جائیکہ ان احادیث کا ذکر ہو جو دیگر ائمہ کے پاس ہیں۔
(مقدمہ فی اصول الحدیث المعروف مقدمۃ الشیخ، ص 38، طبع: مکتبۃ الامین)
(مقدمہ فی اصول الحدیث المعروف مقدمۃ الشیخ، ص 38، طبع: مکتبۃ الامین)
حرفِ آخر: صحتِ حدیث کا اصل معیار
درحقیقت، کسی بھی حدیث کے مقبول یا مردود ہونے کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوتا کہ وہ کس کتاب میں درج ہے۔ اس کا فیصلہ ائمۂ جرح و تعدیل کے وضع کردہ مستند قوانین و ضوابط کی روشنی میں سند اور متن کو پرکھ کر کیا جاتا ہے۔ اگر کسی حدیث کی سند متصل ہو، اس کے راوی عادل اور ضابط ہوں، اور حدیث شذوذ اور علتِ قادحہ سے پاک ہو، تو وہ صحیح اور قابلِ قبول کہلائے گی، خواہ وہ شیخین کی شرائط پر ہو یا کسی اور محدث کی شرائط پر۔
فنونِ حدیث کی مستند کتب
اس فن میں محدثین نے بہت سی کتابیں تحریر کی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
- اصولِ حدیث: نخبۃ الفکر، مقدمہ ابن الصلاح، تدریب الراوی، اصول حدیث کا انسائیکلوپیڈیا، الموقظہ فی علم مصطلح الحدیث، منہج النقد فی علوم الحدیث۔
- جرح والتعدیل: اصول الجرح والتعدیل، الرفع والتکمیل فی الجرح والتعدیل، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم۔
- اسماء الرجال: تقریب التہذیب، تہذیب التہذیب، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، اکمال تہذیب الکمال۔
- کتبِ صحاح: صحیح بخاری، صحیح مسلم، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان، صحیح ابی عوانہ، مستدرک علی الصحیحین، الجمع بین الصحیحین للحمیدی وغیرہ۔