تفقہ فی الدین اور اس کا طریقِ کار | علمِ دین کی اہمیت، فضیلت اور حصول کا درست طریقہ

عمر سفیر رضوی کا جامع مضمون تفقہ فی الدین، علمِ دین کی اہمیت، قرآن و حدیث کی روشنی میں طلبِ علم کی فضیلت، اسلاف کے علمی اسفار اور دین کی صحیح سمجھ حاص
تفقہ فی الدین اور اس کا طریقِ کار | علمِ دین کی اہمیت، فضیلت اور حصول کا درست طریقہ
✍️ قلمکار مولانا عمر سفیر رضوی 📝 موضوع تفقہ فی الدین اور اس کا طریقِ کار 🏢 ادارہ متعلم کلیۃ حدیقۃ الطیبہ لدراسات المتکاملہ الثقافیۃ تفقہ فی الدین اور اس کا طریقِ کار اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ ترجمہ: تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے تاکہ وہ دین میں سمجھ حاصل کریں۔ (سورۃ التوبہ، آیت نمبر 122) دین کا اصطلاحی معنی دین کا اصطلاحی معنی ہے: قانون سماوی سائق لذوی العقول الی الخیر بالذات کاالاحکام الشرعیۃ النازلۃ علی نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ترجمہ و تشریح: دین ایسے سماوی قانون کو کہتے ہیں جو ذوی العقول یعنی عقلمندوں کو خیر بالذات کی طرف لے جائے۔ وہ آسمانی قانون جو ذوی العقول کی خیرِ بالذات کی طرف رہنمائی کرے، جس طرح کے شرعی احکام جو ہمارے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے، یہ انسانوں کو خیرِ بالذات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انسان جب ان احکام کو سمجھ لیتا ہے اور پھر ان پر عمل کرتا ہے تو اس کو خالقِ کائنات دونوں جہان یعنی عالمِ دنیا…

ایک تبصرہ شائع کریں