عورتوں کو پردے کا حکم | قرآن و حدیث کی روشنی میں پردے کی اہمیت | اسلامی تعلیمات

قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں عورتوں کے پردے کا حکم، اسلامی پردے کی اہمیت، حیا، عفت، شرعی حدود اور مسلمان خواتین کی ذمہ داریوں پر مبنی ای
عورتوں کو پردے کا حکم | قرآن و حدیث کی روشنی میں پردے کی اہمیت | اسلامی تعلیمات
✍️ قلمکار مولانا عمر سفیر رضوی 📝 موضوع عورتوں کو پردے کا حکم 🏢 ادارہ متعلم کلیۃ حدیقۃ الطیبہ لدراسات المتکاملہ الثقافیۃ عورتوں کو پردے کا حکم اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ پھرو جیسے اگلی (زمانۂ) جاہلیت کی بے پردگی۔ (سورۃ الاحزاب، آیت: 33) اگلی جاہلیت سے مراد قبلِ اسلام کا زمانہ ہے، اس زمانے میں عورتیں اتراتی نکلتی تھیں، اپنی زیب و زینت کا اظہار کرتی تھیں تاکہ غیر مرد دیکھیں اور لباس اس طرح پہنتی تھیں جس سے جسم کے اعضاء اچھی طرح نہ ڈھکتے تھے۔ اس آیت کا اصل مقصد عفت، حیاء اور پردے کا قیام ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت، تحفظ اور کردار کی پاکیزگی دی۔ آج کے دور میں جہاں میڈیا، فیشن، اور آزادی کے نام پر بے راہ روی پھیل چکی ہے، اس آیت کی روشنی میں مسلمان خواتین کو اپنا طرزِ عمل درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسلام: ایک پاکیزہ اور مہذب دین مذہبِ اسلام ایک ایسا پاکیزہ اور مؤدب مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو ہر طرح کی نجاست اور آلودگی سے دور ر…

ایک تبصرہ شائع کریں