رافضی کون ہیں؟ فتنۂ رافضیت کی تاریخ اور باطل عقائد

جانیے رافضی کون ہیں؟ فتنۂ رافضیت کا تاریخی پس منظر، ان کے باطل عقائد، صحابہ کرام کی گستاخی کا انجام اور اس فتنے کے بارے میں اکابرینِ اہلِ سنت کا متفق
رافضی کون ہیں؟ فتنۂ رافضیت کی تاریخ اور باطل عقائد
✍️ قلمکار ارشد رضا مدنی 📝 موضوع رافضی کون ہیں؟ فتنۂ رافضیت کی تاریخ اور باطل عقائد 🏢 ادارہ مدرس جامعۃ المدینہ لکھنؤ رافضی کون؟ اسلامی تاریخ کا مطالعہ جہاں ہمیں فتوحات کی داستانیں سناتا ہے، وہاں عہدِ رسالت کے بعد پیدا ہونے والے مختلف فتنوں سے بھی روشناس کراتا ہے۔ انھی فتنوں میں ایک ابھرتا ہوا فتنہ رافضیت ہے، جس کو رفض یا رافضہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ گروہ حبِ اہل بیت کی آڑ میں جلیل القدر صحابہ کرام، بالخصوص خلفائے راشدین کا صراحتاً دشمن ہے؛ بلکہ یہ تو خلفائے راشدین کی خلافت کو "خلافتِ غاصبہ" کہتا ہے، اور ان کے معمولات میں صحابہ پر تبراء اور دیگر گستاخیاں شامل ہیں۔ لغوی اور اصطلاحی مفہوم لغوی اعتبار سے: رفض کے معنی "الترک" یعنی چھوڑنے کے ہیں۔ ہر وہ گروہ جس نے اپنے قائد کو چھوڑ دیا ہو، اسے رافضہ کہا جاتا ہے۔ عربی میں کہا جاتا ہے: "رَفَضَ يَرْفِضُ رَفْضًا" یعنی اس نے ترک کر دیا۔ اصطلاحی طور پر: یہ لفظ مخصوص عقائد اور نظریات رکھنے والے اس گروہ پر بولا جاتا ہے جنہوں نے شیخین کریمین اور اکثر صحابہ کرام کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، اور یہ دعوی…

ایک تبصرہ شائع کریں