قرض لے کر واپس نہ کرنا گناہ ہے | قرض دبانے کا انجام اور اسلامی تعلیمات
اسلام میں قرض واپس کرنا ایک اہم ذمہ داری ہے۔ جانیں قرض دبانے کی وعید، قرض دینے کا ثواب، مسلمانوں کو تکلیف دینے کی ممانعت اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی م
قرض لے کر واپس نہ کرنا گناہ ہے | قرض دبانے کا انجام اور اسلامی تعلیمات
✍️ قلمکار ارشد رضا مدنی 📝 موضوع قرض لے کر واپس ادا کرو 🏢 ادارہ مدرس جامعۃ المدینہ لکھنؤ
قرض لے کر واپس ادا کرو
فی زمانہ امتِ مسلمہ جس قدر ذلت و رسوائی کا شکار ہے، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ گناہوں کی کثرت اور گناہوں کو معمولی سمجھ لینا ہے۔ بعض معاملات تو ایسے ہیں کہ لوگ گناہ کو گناہ بھی تصور نہیں کرتے۔ انہی گناہوں میں ایک سنگین برائی یہ ہے کہ کئی مسلمان دوسروں کا حق کھا لیتے ہیں: قرض لے کر واپس نہ کرنا اور حیلے بہانے تلاشنا۔
بعض تو دوستی کا سہارا لے کر کہتے ہیں: ”تم کو مجھ پر بھروسہ نہیں؟ کیسے دوست ہو یار؟“ اور کبھی ضرورت کے بہانے قرض لیا جاتا ہے، مگر جب واپس دینے کا وقت آتا ہے تو انکار کر دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ بہادری دکھاتے ہوئے کہتے ہیں: ”میں نے کچھ نہیں لیا“ یا دعویٰ کرتے ہیں کہ ”کوئی گواہ نہیں ہے“؛ اس طرح حق چھپا لیا جاتا ہے۔ کچھ صورتوں میں ٹال مٹول کیا جاتا ہے۔ بار بار وعدے کیے جاتے ہیں کہ ”ابھی دے دوں گا“ مگر وعدہ خلافی ان کا معمول بن جاتا ہے۔
قرض دبانے کا بھیانک انجام
سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"تین پیسہ دین (قرض) کے عوض (یع…