ماہِ محرم الحرام میں ہونے والی بدعات و خرافات
ماہِ محرم الحرام بہت ہی بابرکت اور مقدس مہینہ ہے، اس مہینے کی نسبت رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ رب العزت کی طرف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
شَهْرُ اللّٰهِ الْمُحَرَّمُ
ترجمہ: یعنی محرم اللہ عزوجل کا مہینہ ہے۔
قرآن و حدیث میں ایک طرف اس ماہ میں عبادت کے بے شمار فضائل و برکات بیان کیے گئے ہیں، تو دوسری طرف اس میں گناہ کرنے کی وعیدیں بھی ہیں، یعنی جو بندہ ماہِ محرم الحرام میں عبادت کرتا ہے تو اس کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے، اور جو گناہ کرتا ہے، اس کا وبال بھی بڑھ جاتا ہے۔
لہٰذا محرم کا مہینہ آتے ہی ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہماری عبادتیں اس میں بڑھ جاتیں، نوافل کا اہتمام ہوتا، بدعات و خرافات سے اجتناب ہوتا، گناہ کے کاموں سے اپنے آپ کو بچانے کی مکمل کوششیں کی جاتیں، مگر افسوس جب ماہِ محرم الحرام آتا ہے تو معاشرے کے اندر طرح طرح کی خرافات، بدعات، اور رسم و رواج ہونے لگتے ہیں، جن کا قرآن و حدیث سے بالکل تعلق نہیں ہوتا۔ انہی نئی نئی بدعات و خرافات میں سے مروجہ تعزیہ داری بھی ہے۔
قرآن و حدیث میں ایک طرف اس ماہ میں عبادت کے بے شمار فضائل و برکات بیان کیے گئے ہیں، تو دوسری طرف اس میں گناہ کرنے کی وعیدیں بھی ہیں، یعنی جو بندہ ماہِ محرم الحرام میں عبادت کرتا ہے تو اس کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے، اور جو گناہ کرتا ہے، اس کا وبال بھی بڑھ جاتا ہے۔
لہٰذا محرم کا مہینہ آتے ہی ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہماری عبادتیں اس میں بڑھ جاتیں، نوافل کا اہتمام ہوتا، بدعات و خرافات سے اجتناب ہوتا، گناہ کے کاموں سے اپنے آپ کو بچانے کی مکمل کوششیں کی جاتیں، مگر افسوس جب ماہِ محرم الحرام آتا ہے تو معاشرے کے اندر طرح طرح کی خرافات، بدعات، اور رسم و رواج ہونے لگتے ہیں، جن کا قرآن و حدیث سے بالکل تعلق نہیں ہوتا۔ انہی نئی نئی بدعات و خرافات میں سے مروجہ تعزیہ داری بھی ہے۔
تعزیے کی شرعی حیثیت اور اس کی ابتدا
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے رسالہ "اعالی الافاضۃ فی تعزیۃ الہند و بیانِ شہادت" میں ارشاد فرمایا:
"تعزیے کی اصل اس قدر تھی کہ روضۂ پرنور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحیح نقل بنا کر بہ نیتِ تبرک مکان میں رکھنا، اس میں شرعاً کوئی حرج نہ تھا، لیکن جیسے ہی ماہِ محرم الحرام کا چاند نظر آتا ہے، ویسے ہی امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضۂ مبارک کی صحیح نقل نہ بنا کر طرح طرح کی دیگر صورتیں اختیار کرتے ہیں، ڈھول، باجے، گانے، جلوس، اور اس کے علاوہ بہت ساری بدعات و خرافات انجام دیتے ہیں۔"
"تعزیے کی اصل اس قدر تھی کہ روضۂ پرنور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحیح نقل بنا کر بہ نیتِ تبرک مکان میں رکھنا، اس میں شرعاً کوئی حرج نہ تھا، لیکن جیسے ہی ماہِ محرم الحرام کا چاند نظر آتا ہے، ویسے ہی امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضۂ مبارک کی صحیح نقل نہ بنا کر طرح طرح کی دیگر صورتیں اختیار کرتے ہیں، ڈھول، باجے، گانے، جلوس، اور اس کے علاوہ بہت ساری بدعات و خرافات انجام دیتے ہیں۔"
تعزیہ بنانا، دیکھنا اور ان پر معتقد ہونا کیسا؟
اس تعلق سے اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: "مروجہ تعزیہ مجمع بدعاتِ شنیعہ سیئہ ہے، اس کا بنانا، دیکھنا جائز نہیں، اور تعظیم و عقیدت سخت حرام اور اشد بدعت ہے۔"
(فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 489، مکتبہ رضا فاؤنڈیشن)
(فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 489، مکتبہ رضا فاؤنڈیشن)
تعزیے کی منت، فاتحہ اور مصنوعی کربلا جانا
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی فتاویٰ رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
"علم (جھنڈا)، تعزیے کی منت، چڑھاو ا، تاشے، مرثیہ ماتم، مصنوعی کربلا کو جانا، اور عورتوں کا تعزیہ دیکھنے کو نکلنا، یہ سب باتیں حرام و گناہ و ناجائز و منع ہیں۔ فاتحہ دینا جائز ہے، روٹی، شیرینی، شربت، جس چیز پر ہو، مگر تعزیے پر رکھ کر یا اس کے سامنے فاتحہ دینا جہالت ہے، اور اس پر چڑھانے کے سبب تبرک سمجھنا حماقت ہے۔ ہاں تعزیے سے جدا جو خالص سچی نیت سے حضراتِ شہدائے کربلا رضی اللہ عنہم کی نیاز ہو وہ ضرور تبرک ہے۔"
(فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 498، مکتبہ رضا فاؤنڈیشن)
"علم (جھنڈا)، تعزیے کی منت، چڑھاو ا، تاشے، مرثیہ ماتم، مصنوعی کربلا کو جانا، اور عورتوں کا تعزیہ دیکھنے کو نکلنا، یہ سب باتیں حرام و گناہ و ناجائز و منع ہیں۔ فاتحہ دینا جائز ہے، روٹی، شیرینی، شربت، جس چیز پر ہو، مگر تعزیے پر رکھ کر یا اس کے سامنے فاتحہ دینا جہالت ہے، اور اس پر چڑھانے کے سبب تبرک سمجھنا حماقت ہے۔ ہاں تعزیے سے جدا جو خالص سچی نیت سے حضراتِ شہدائے کربلا رضی اللہ عنہم کی نیاز ہو وہ ضرور تبرک ہے۔"
(فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 498، مکتبہ رضا فاؤنڈیشن)
ماہِ محرم الحرام میں سبز اور سیاہ کپڑے پہننا
ماہِ محرم الحرام میں سبز (ہرے) اور سیاہ (کالے) کپڑے پہننا علاماتِ سوگ ہیں، اور سوگ حرام ہے، خصوصاً سیاہ روافض کی نشانی ہے۔
(احکامِ شریعت، حصہ اول، صفحہ 141)
(احکامِ شریعت، حصہ اول، صفحہ 141)
خلاصۂ کلام اور دعا
مذکورہ عبارتوں سے واضح ہو گیا کہ مروجہ تعزیہ بنانا، دیکھنا، ان پر دل سے معتقد ہونا، تعزیے کی منت ماننا، اسے شان و شوکت کا ذریعہ سمجھنا، تعزیے پر فاتحہ دینا، شیرینی چڑھانا، اور ماہِ محرم الحرام میں سبز اور سیاہ کپڑے پہننا؛ یہ ساری چیزیں جہالت، حماقت، بے معنی، ناجائز و گناہ، حرام، اور بدعات و خرافات کی طرف لے جانے والی ہیں۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو محرم کی خرافات و بدعات سے بچا کر جو اصل اس میں عبادتیں ہیں، وہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو محرم کی خرافات و بدعات سے بچا کر جو اصل اس میں عبادتیں ہیں، وہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔