فینشی بالوں پر ایک نظر

فینشی بالوں پر ایک نظر *✍🏻 عمران رضا عطاری مدنی* مرکزی جامعۃ المدینہ ناگپور
فینشی بالوں پر ایک نظر
فینشی بالوں پر ایک نظر ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ از : عمران رضا عطاری مدنی بنارسی  شعبہ تخصص فی الحدیث ناگپور  ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آج کل اکثر نوجوانوں کا بال رکھنے کا انداز سمجھ سے بالا تر ہے ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے زلفیں رکھتے : کبھی آدھے کان کی لو تک ، کبھی پورے کان کی لو تک، کبھی اتنے بڑھاتے کہ شانوں کو چومنے لگیں، مگر افسوس کہ آج کل بال رکھنے میں نبی اکرمﷺ کے دشمنوں: یہود و نصارٰی کے اسٹائل پر عمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، کسی نے آدھے بال کٹوائے آدھے چھوٹ دیے، کسی کے آگے کے بال بڑے بڑے تو پچھے کے بالکل چھوٹے ، کسی نے بالوں میں عجیب و غریب انداز میں کٹ لگایا ہوا ہے حالاں کہ ہمارے پیارے دین اسلام میں اس طرح فاسقوں جیسی صورت بنانے ان کے انداز پر بال رکھنے سے منع کیا گیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا کہ جس کے سر کے کچھ بال کو مونڈ دیا گیا تھا جب کہ بعض جگہ کے بال چھوڑے ہوئے تھے، آپ نے اس سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا : احْلِقُوهُ كُلَّهُ،…

ایک تبصرہ شائع کریں