مختصر سوانحِ حضور فقیہِ اسلام مفتی عبد الحلیم صدیقی | حیات و خدمات

حضور فقیہِ اسلام مفتی عبد الحلیم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کی مختصر سوانح حیات، علمی کمالات، اور دینی و ملی خدمات پر محمد عبد الواجد عطاری کا ایک جامع مضمو
مختصر سوانحِ حضور فقیہِ اسلام مفتی عبد الحلیم صدیقی | حیات و خدمات۔ حضور فقیہِ اسلام مفتی عبد الحلیم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کی مختصر سوانح حیات، علمی کمالات، اور دینی و ملی خدمات پر محمد عبد الواجد عطاری کا ایک جامع مضمون۔
✍️ قلمکار
محمد عبد الواجد عطاری
📝 موضوع
مختصر سوانحِ حضور فقیہِ اسلام مفتی عبد الحلیم صدیقی رحمه الله
🏢 ادارہ
متعلم جامعۃ المدینہ آگرہ درجہ سادسہ

مختصر سوانحِ حضور فقیہِ اسلام

حضور فقیہِ اسلام، خلیفۂ مفتیِ اعظم ہند و قطبِ مدینہ کی ذاتِ گرامی وقار عالمِ سنیت میں محتاجِ تعارف نہیں۔ بلاشبہ حضور فقیہِ اسلام گوناگوں اوصاف و کمالات کے حامل تھے۔ آپ علیہ الرحمہ کو درس و تدریس، فقہ و افتاء اور دعوت و تبلیغ جیسے کئی علوم و فنون میں دسترس حاصل تھی۔

اسمِ گرامی و ولادت

حضرت فقیہِ اسلام کا اسمِ گرامی عبدالحلیم اشرفی رضوی ابن محمد منیر الدین بن شیر علی بن حب علی بن رمضان علی بن امانت علی صدیقی ہے۔

حضور فقیہِ اسلام سرپرستِ دعوت اسلامی مفتی عبد الحلیم رضوی علیہ رحمۃ اللہ الغنی ضلع سیتا مڑھی بہار کے ایک انتہائی پسماندہ مخدوش اور غیر معروف گاؤں 'دوری' میں 4 جنوری 1937ء کو پیدا ہوئے۔ یہ گاؤں مظفر پور ریلوے جنکشن سے تقریباً 53 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حضور فقیہِ اسلام کی برکت سے آج یہ علاقہ عظمت و شہرت کے ساتھ ساتھ عقیدت و محبت کا مرکز و محور بن چکا ہے۔

تعلیم و تربیت

حضور فقیہِ اسلام مفتی عبدالحلیم رضوی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے ابتدائی تعلیم موضع "بہورار" میں عبد الحکیم نامی ایک عالمِ دین سے حاصل کی، وہ فارسی، ریاضی اور زمین کی پیمائش سے متعلقہ علوم میں خاص ماہر تھے۔ اپنے جذبہ و لگن کی بدولت حضور فقیہِ اسلام نے بھی ان علوم میں خاص مہارت حاصل کی۔

بعد ازاں 1950ء میں ایک دیوبندی مولوی نے فریب دے کر آپ کا داخلہ دیوبند کے ایک مدرسہ اشرف العلوم میں کروا دیا، جہاں آپ نے فارسی و عربی کی چند ابتدائی کتب پڑھیں، لیکن وہاں سے جلد ہی جان چھوٹ گئی، اور آپ کو اہلِ سنت و جماعت کے عظیم الشان مدرسہ 'نور الہدیٰ' میں داخل کروا دیا گیا۔ یہ ادارہ ممدوحِ اعلیٰ حضرت، عارف باللہ حضرت مولانا شاہ عبد الرحمن صاحب کا قائم کردہ تھا۔ یہاں آپ نے بحر العلوم حضرت علامہ مولانا محمد مطیع الرحمن نوری اور رئیس الاتقیاء حضرت علامہ مولانا الحاج عبد الجلیل قادری رضوی جیسے جلیل القدر اور ماہر اساتذہ سے 'یوسف زلیخا'، 'اخلاق محسنی'، 'سکندر نامہ'، 'جدائی منظوم' اور 'واقعات عالمگیری' وغیرہ کتابیں پڑھیں۔

مزید حصولِ علم کے لیے 1953ء میں دار العلوم منظرِ اسلام بریلی شریف حاضر ہوئے، اور پورے انہماک کے ساتھ میزان، منشعب، نحومیر، مشکوٰۃ شریف اور تفسیر جلالین وغیرہ سمیت دورۂ حدیث شریف تک تعلیم حاصل کی۔ یہیں حضور فقیہِ اسلام پر رضویت کا حقیقی رنگ چڑھا، اور تقویٰ و پرہیزگاری کے ساتھ ساتھ عقائد میں بھی تصلب کا حصول ہوا۔ حصولِ علم کے لیے آپ کی تشنگی اور ذوق و شوق دیکھ کر اساتذۂ کرام نے حضور فقیہِ اسلام پر خاص توجہ فرمائی، اور آپ کی شخصیت و کردار سازی میں اہم کردار ادا کیا۔

اساتذۂ ذوی الاحترام

حضور فقیہِ اسلام مفتی عبد الحلیم اشرفی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے جن جلیل القدر اساتذہ و مشائخ سے اکتسابِ فیض کیا، ان میں سے چند کے اسمائے گرامی حسبِ ذیل ہیں:
  • مفتیِ اعظم ہند علامہ ابراہیم رضا خان قادری
  • محدثِ اعظمی علامہ ثناء اللہ قادری رضوی
  • بحر العلوم علامہ مفتی سید افضل حسین مونگیری
  • شیخ العلماء علامہ مولانا غلام جیلانی اعظمی
  • ریحانِ ملت علامہ ریحان رضا خان قادری رضوی
  • محدثِ اعظم بہار علامہ احسان علی رضوی مظفر پوری
  • مجاہدِ ملت علامہ مولانا حبیب الرحمن عباسی قادری
  • استاذ الاساتذہ علامہ مفتی مطیع الرحمن نوری رضوی
  • عمدۃ المدرسین حضرت علامہ مولانا نعیم الدین احمد صدیقی گورکھپور

تدریسی خدمات

حضور فقیہِ اسلام مفتی عبد الحلیم رضوی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا شمار انتہائی محنتی اور ماہر اساتذہ میں ہوتا ہے۔ آپ نے طویل عرصہ تک انتہائی اخلاص کے ساتھ تدریس فرمائی۔ اس تمام عرصہ میں کسی مال و دولت یا جاہ و منصب کی خواہش نہ فرمائی، نہ ہی کسی گروہ بندی کا حصہ بنے، اپنے کام سے کام رکھا اور اپنی پوری توجہ درس و تدریس پر مبذول رکھی۔

دار العلوم منظرِ اسلام جیسی عظیم درس گاہ میں زمانۂ طالب علمی ہی کے دوران آپ کو معاون استاد مقرر کیا گیا۔ درسیات میں آپ کی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 'کافیہ' جیسی مشکل اور دقیق کتاب آپ کے طلباء کو زبانی یاد تھی۔

جن مدراس و دور الافتاء میں حضرت فقیہِ اسلام مفتی عبد الحلیم رضوی نے تدریس اور فتویٰ نویسی کی خدمات انجام دیں، ان میں نمایاں اداروں کے نام حسبِ ذیل ہیں:
  • دار العلوم منظرِ اسلام، بریلی شریف
  • دار الافتاء دار العلوم منظرِ اسلام، بریلی شریف
  • جامعہ نعیمیہ چھپرا
  • جامعہ عربیہ ناگپور
  • دار الافتاء جامعہ عربیہ، ناگپور

چند مشہور تلامذہ

  • نواسۂ محدثِ اعظم سید تنویر اشرف
  • پیرِ طریقت صوفی نظام الدین آشٹی، مہاراشٹرا
  • سید اجمل حسین اشرفی، کچھوچھہ شریف
  • مولانا عبدالرشید اشرفی، برہانپوری
  • مولانا عبدالرزاق، جبل پوری
  • قاری انوار الحق، جبل پوری
  • مولانا عطاء الرحمن شافعی
  • مولانا محمد علی شافعی
  • الحاج نسیم الدین رضوی
  • سید محمد صفی اشرفی رائچوری
  • مفتی لقمان احمد
  • مولانا علاء الدین چھپراوی (صدر مدرس وارث العلوم چھرہ، بہار)
  • مولانا سہیل احمد (صدر مدرس محی العلوم سیوان، بہار)
  • مفتی وسیم اکرم رضوی مصباحی

بیعت و خلافت اور اجازت

حضور فقیہِ اسلام مفتی عبدالحلیم رضوی صاحب اپنے استاذ حضرت محدث احسان علی کے حکم پر دورانِ تعلیم ہی اولاً محدثِ اعظم ہند سید محمد کچھوچھوی کے دستِ حق پرست پر بریلی شریف میں بیعت ہوئے اور پھر ان کے وصال کے بعد شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کے مبارک ہاتھوں پر طالب ہونے کا شرف حاصل کیا۔

حضور فقیہِ اسلام مفتی عبد الحلیم اشرفی رضوی کو حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان قادری اور قطبِ مدینہ حضور ضیاء الدین مدنی سے اجازت و خلافت کا شرف حاصل تھا۔ حضور قطبِ مدینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو تقریباً 17 سلاسل کی اجازت حاصل تھی، انہوں نے تحریری طور پر ان سب کی اجازت حضرت فقیہِ اہلِ سنت کو عطا فرمائی۔ اسی طرح سرکار مجاہدِ ملت مولانا شاہ حبیب الرحمن صاحب اور استاذ الاساتذہ حضرت محدث احسان علی صاحب نے بھی حضور فقیہِ اسلام کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے سرفراز کیا۔

تصنیفی خدمات

حضرت فقیہِ اسلام زندگی بھر درس و تدریس، طلبہ کی شخصیت سازی، اور دعوت و تبلیغ میں مصروف رہے۔ شب و روز کی ان مصروفیات کے باعث آپ کو تصنیف و تالیف کے لیے کوئی خاص وقت میسر نہیں آیا، البتہ تصنیفی خدمات کے طور پر درج ذیل تحریریں اور رسائل خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں:
  • فلم خانۂ خدا کا شرعی حکم
  • اسلام میں داڑھی کا مقام
  • فتاویٰ حلیمیہ (حضور فقیہِ اسلام کے قدیم فتاویٰ پر مشتمل یہ مجموعہ آپ کے صاحبزادے مفتی یحییٰ رضا مصباحی صاحب کی کاوشوں کا نتیجہ ہے)

وصالِ پرملال

خلیفۂ مفتیِ اعظم ہند، حضرت علامہ مفتی عبد الحلیم صدیقی اشرفی رضوی ناگپوری علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا وصالِ پرملال 24 اپریل 2021ء کو رات کے وقت ہوا۔

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ
اللہ تعالیٰ حضرت کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے پسماندگان اور جملہ خلفاء، مریدین، تلامذہ اور محسنین کو صبرِ جمیل دے، اور ان کے انتقال سے اہلِ سنت و جماعت میں پیدا ہونے والے اس خلاء کو کسی نعم البدل کی صورت میں پورا فرمائے، اور ہمیں حضور فقیہِ اسلام مفتی عبد الحلیم اشرفی رضوی ناگپوری علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔

آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ
(ملخصاً جہانِ فقیہ اسلام، باب: 2، ص: 81 تا ماقبل ص: 90)

ایک تبصرہ شائع کریں