یومِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار | جنگِ آزادی میں علمائے کرام کی قربانیاں

یومِ آزادی کے موقع پر ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں اور علمائے کرام کے کردار، قربانیوں، صحافتی و فکری خدمات اور جذبۂ حریت کا مختصر تاریخی ج
یومِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار | جنگِ آزادی میں علمائے کرام کی قربانیاں
✍️ قلمکار حافظ فرمان المصطفیٰ نظامی حسینی حنفی 📝 موضوع یومِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار 🏢 ادارہ مرکزی جامعۃ المدینہ، فیضانِ مفتیِ اعظم ہند، شاہ جہان پور یومِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار 15 اگست 1947ء کا سورج جب افقِ ہند پر طلوع ہوا تو وہ محض ایک نئے دن کی نوید نہ تھا، بلکہ طویل غلامی کی تاریک رات کے اختتام اور آزادی کی صبحِ صادق کے آغاز کا اعلان تھا۔ اس روشن ساعت کے پسِ پردہ عزم و استقلال، صبر و استقامت، ایثار و قربانی اور جاں نثاری کی ایک طویل داستان پوشیدہ تھی۔ 1857ء سے 1947ء تک کا زمانہ برصغیر کی تاریخ میں آزادی اور حریت کی ایک پُرآشوب جدوجہد کا دور ہے۔ برطانوی استعمار نے ہندوستان پر اپنے اقتدار کے پنجے مضبوط کر رکھے تھے، مگر اہلِ ہند نے غلامی کو تسلیم نہ کیا۔ مختلف طبقات اور مذاہب کے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں اس استعماری اقتدار کے خلاف مزاحمت کی۔ اس عظیم جدوجہد میں مسلمانوں، بالخصوص علمائے کرام کا کردار نہایت نمایاں رہا۔ علماء نے عوام میں حریت کا شعور بیدار کیا، ظلم و استبداد کے خلاف صدائے حق بلند کی اور آزادی کی جدوجہد میں عملی کردار ادا کیا۔ اہلِ قلم، صحافیوں، سیا…

ایک تبصرہ شائع کریں