اشاعتیں

مشرک کون؟ دیوبندی کتب کی روشنی میں | دیوبندی اکابر کی عبارات کا جائزہ

دیوبندی کتب سے نقل کردہ حوالہ جات کی روشنی میں ایک تحقیقی مضمون، جس میں شرک کے متعلق پیش کیے جانے والے اعتراضات اور ان کے اپنے اکابر کی عبارات کا جائز
Attari
مشرک کون؟ دیوبندی کتب کی روشنی میں | دیوبندی اکابر کی عبارات کا جائزہ
✍️ قلمکار مولانا سلیم رضا مدنی 📝 موضوع مشرک کون؟ دیوبندی کتب کی روشنی میں 🏢 ادارہ دعوتِ اسلامی ہند مشرک کون؟ دیوبندی کتب کی روشنی میں ہندوستان میں کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک اور بقیہ بھی ہر ملک میں دیوبندی یہ کہتا نظر آتا ہے کہ: "بریلوی مشرک ہیں اس لیے کہ یہ غیر اللہ سے مانگتے ہیں۔" آئیے اب ہم انہی کے اصولوں کے مطابق ان کے مشرک اکابر سے آپ کی ملاقات کرواتے ہیں۔ ذیل میں ہم دیوبندی کتب سے کچھ حوالہ جات نقل کریں گے جو ہم نے نہیں لکھے بلکہ لکھنے والے بھی انہی کے دیوبندی مصنفین ہیں۔ دلیل نمبر 1: قاسم نانوتوی غیر اللہ کو پکارتے ہوئے قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند ہیں اور طواغیتِ اربعہ میں سے ایک ہیں۔ ان کے تعلق سے دیوبندی مناظر احسن گیلانی لکھتا ہے کہ: "مولانا محمد قاسم نانوتوی (بانی دارالعلوم دیوبند) اگر اکیلے کسی مزار پر جاتے اور دوسرا شخص وہاں موجود نہ ہوتا، تو (بلند) آواز سے عرض کرتے کہ آپ میرے واسطے دعا کریں۔" (حوالہ: سوانح قاسمی از مولانا مناظر احسن گیلانی، حصہ اول، صفحہ 29) مولانا محمد قاسم نانوتوی کا یہ شعر بھی پڑھیں: مدد کر اے کرمِ احمد…

ایک تبصرہ شائع کریں