یومِ آزادی میں مسلمانوں کا کردار
15 اگست 1947ء کا سورج جب افقِ ہند پر طلوع ہوا تو وہ محض ایک نئے دن کی نوید نہ تھا، بلکہ طویل غلامی کی تاریک رات کے اختتام اور آزادی کی صبحِ صادق کے آغاز کا اعلان تھا۔ اس روشن ساعت کے پسِ پردہ عزم و استقلال، صبر و استقامت، ایثار و قربانی اور جاں نثاری کی ایک طویل داستان پوشیدہ تھی۔
1857ء سے 1947ء تک کا زمانہ برصغیر کی تاریخ میں آزادی اور حریت کی ایک پُرآشوب جدوجہد کا دور ہے۔ برطانوی استعمار نے ہندوستان پر اپنے اقتدار کے پنجے مضبوط کر رکھے تھے، مگر اہلِ ہند نے غلامی کو تسلیم نہ کیا۔ مختلف طبقات اور مذاہب کے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں اس استعماری اقتدار کے خلاف مزاحمت کی۔
اس عظیم جدوجہد میں مسلمانوں، بالخصوص علمائے کرام کا کردار نہایت نمایاں رہا۔ علماء نے عوام میں حریت کا شعور بیدار کیا، ظلم و استبداد کے خلاف صدائے حق بلند کی اور آزادی کی جدوجہد میں عملی کردار ادا کیا۔ اہلِ قلم، صحافیوں، سیاسی رہنماؤں، مجاہدین اور عام مسلمانوں نے بھی اپنے اپنے میدان میں قربانیاں پیش کیں۔
1857ء کی جنگِ آزادی اس جدوجہد کا ایک اہم سنگِ میل تھی۔ دہلی، لکھنؤ، اودھ اور دیگر علاقوں میں برطانوی اقتدار کے خلاف شدید مزاحمت ہوئی۔ اگرچہ یہ جدوجہد فوری طور پر کامیاب نہ ہو سکی، لیکن اس نے آزادی کی شمع کو بجھنے نہ دیا اور آنے والی نسلوں کے دلوں میں حریت کا جذبہ مزید فروزاں کر دیا۔
1857ء سے 1947ء تک کا زمانہ برصغیر کی تاریخ میں آزادی اور حریت کی ایک پُرآشوب جدوجہد کا دور ہے۔ برطانوی استعمار نے ہندوستان پر اپنے اقتدار کے پنجے مضبوط کر رکھے تھے، مگر اہلِ ہند نے غلامی کو تسلیم نہ کیا۔ مختلف طبقات اور مذاہب کے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں اس استعماری اقتدار کے خلاف مزاحمت کی۔
اس عظیم جدوجہد میں مسلمانوں، بالخصوص علمائے کرام کا کردار نہایت نمایاں رہا۔ علماء نے عوام میں حریت کا شعور بیدار کیا، ظلم و استبداد کے خلاف صدائے حق بلند کی اور آزادی کی جدوجہد میں عملی کردار ادا کیا۔ اہلِ قلم، صحافیوں، سیاسی رہنماؤں، مجاہدین اور عام مسلمانوں نے بھی اپنے اپنے میدان میں قربانیاں پیش کیں۔
1857ء کی جنگِ آزادی اس جدوجہد کا ایک اہم سنگِ میل تھی۔ دہلی، لکھنؤ، اودھ اور دیگر علاقوں میں برطانوی اقتدار کے خلاف شدید مزاحمت ہوئی۔ اگرچہ یہ جدوجہد فوری طور پر کامیاب نہ ہو سکی، لیکن اس نے آزادی کی شمع کو بجھنے نہ دیا اور آنے والی نسلوں کے دلوں میں حریت کا جذبہ مزید فروزاں کر دیا۔
علمائے عظام جنہوں نے جنگِ آزادی میں عملی حصہ لیا
جنگِ آزادی میں علماء نے تلوار کیوں اٹھائی؟ اسلام تو امن اور سلامتی کا مذہب ہے۔ اسے تلوار سے کیا واسطہ! ایک عام مسلمان اگر تلوار اٹھا لے تو کہا جا سکتا ہے کہ اسے شاید اسلام کے معنی نہیں معلوم لیکن عالم تو اسلام کے معنی جانتا ہے۔ اس کے باوجود تلوار اٹھا لیتا ہے۔ کیوں؟
اس لیے کہ اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ غیر اللہ کی طاقت پر بھروسہ مت کرو۔ ظالم اور جابر کے سامنے جھکنے کے بجائے حق کے لیے خود کو قربان کر دو۔ یہی جہاد کا فلسفہ ہے۔ جب ظالم اور جابر کا ظلم اور ناانصافی اپنے حدود سے تجاوز کر جائے تو پھر علماء کی ذمہ داری ٹھہرتی ہے کہ وہ ظالم اور جابر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور عوام کی رہنمائی بھی کریں۔ چنانچہ اس فلسفے نے علماء کو متحرک کیا اور تاریخ کے مطالبے پر جن علماء نے قلم ہاتھ سے رکھ کر تلوار اٹھا لی، ان کے نام ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:
اس لیے کہ اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ غیر اللہ کی طاقت پر بھروسہ مت کرو۔ ظالم اور جابر کے سامنے جھکنے کے بجائے حق کے لیے خود کو قربان کر دو۔ یہی جہاد کا فلسفہ ہے۔ جب ظالم اور جابر کا ظلم اور ناانصافی اپنے حدود سے تجاوز کر جائے تو پھر علماء کی ذمہ داری ٹھہرتی ہے کہ وہ ظالم اور جابر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور عوام کی رہنمائی بھی کریں۔ چنانچہ اس فلسفے نے علماء کو متحرک کیا اور تاریخ کے مطالبے پر جن علماء نے قلم ہاتھ سے رکھ کر تلوار اٹھا لی، ان کے نام ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:
- مولانا احمد اللہ شاہ فیض آبادی: جنگِ آزادی کے صفِ اول کے رہنما۔ مولانا نے وسط ہند اور اودھ کی ساری جنگوں میں حصہ لیا۔ قصبہ محمدی میں ایک آزاد حکومت قائم کی۔ کالن کیمبل نے قصبہ محمدی پر حملہ کر دیا۔ سپاہیوں اور ہتھیاروں کی کمی کے باعث مجاہدین پریشان تھے۔ مولانا نے پواین کے راجہ سے مدد مانگی جو انگریزوں سے ملا ہوا تھا۔ اس نے مولانا کو دعوت دی، جب مولانا وہاں پہنچے تو قلعہ کے اوپر سے ان پر حملہ کیا گیا اور آپ پواین کے قلعہ کے سامنے شہید ہو گئے۔
- مولانا فضلِ حق خیر آبادی: اکثر دیسی ریاستوں کو بغاوت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ جنرل بخت خان کی فوج کے ساتھ 1857ء میں دہلی آئے اور جہاد کا فتویٰ مرتب کر کے پیش کیا۔ دہلی کی شکست کے بعد خانہ بدوش زندگی گزاری، نومبر 1858ء میں گرفتار ہوئے۔ آپ کو کالے پانی کی سزا دی گئی اور ساری عمر اسی سزا میں گزار کر انتقال کیا۔
- حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی: شاملی کی جنگ میں مجاہدین کی رہنمائی کی۔ جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد آپ مکہ معظمہ چلے گئے۔ حاجی صاحب سید احمد شہید کی تحریک سے متعلق رہے، 1867ء میں وفات پائی۔
- مولانا رحمت اللہ کیرانوی: شاملی کے معرکہ میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ کیرانہ ضلع مظفر نگر میں انگریزی فوجوں سے مقابلہ کیا اور مجاہدین کی رہنمائی کی۔ وارنٹ جاری ہونے پر گرفتاری سے بچنے کے لیے مکہ معظمہ چلے گئے۔
- مولانا مظہر اور مولانا منیر: شاملی کی جنگ میں حاجی امداد اللہ کے ساتھ تھے۔
- مولانا سید اسحاق ٹونکی: دہلی کے معرکوں میں ایک فوجی دستے کے افسر تھے۔
- مولوی لیاقت علی: الٰہ آباد کی شکست کے بعد نانا صاحب کے ساتھ رہے۔ قصبہ محمدی میں آزاد حکومت میں بھی شریک تھے۔ انقلابی رہنماؤں کے ساتھ نیپال چلے گئے۔ واپس آنے پر بمبئی میں گرفتار ہوئے، کالے پانی کی سزا ہوئی اور 1892ء میں وہیں انتقال کیا۔
- مولوی وہاج الدین عرف منو: مراد آباد میں انقلابیوں کی رہنمائی کی۔ جب نواب رام پور کی فوج مجاہدین کی سرکوبی کے لیے پہنچی تو آپ نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
- مفتی عنایت احمد کاکوری: بریلی اور رام پور میں آپ کی سرگرمیاں رہیں۔ آپ نے خان بہادر خان کے ساتھ تمام معرکوں میں حصہ لیا۔
- مولوی رضی اللہ بدایونی: بدایوں کے صدیقی شیخ تھے۔ جنگ میں عملی طور پر سرگرم حصہ لیا۔ جنگ کے بعد گرفتار ہوئے اور موت کی سزا دی گئی۔
- شاہ غلام بولن سیوہاروی: مراد آباد کی انقلابی فوج میں شامل تھے۔ جنگ کے بعد گرفتار کیے گئے اور انڈمان بھیج دیے گئے۔
- مولوی کفایت علی کافی: نواب مجو خان کی آزاد حکومت میں صدرِ شریعت کے عہدے پر فائز رہے۔ مراد آباد میں انقلابیوں کی ناکامی کے بعد گرفتار ہوئے اور مراد آباد جیل کے سامنے پھانسی دی گئی۔
- مولانا یحییٰ علی: تحریکِ مجاہدین کے بے مثل کارکن۔ انبالے کے مقدمے میں پھانسی کی سزا ہوئی۔ اس پر بے انتہا خوشی کا مظاہرہ کیا کہ شہادت کا درجہ ملے گا۔ یہ دیکھ کر جج نے سزا بدل دی اور جلاوطن کر کے انڈمان بھیج دیا۔
- مولانا فیض احمد بدایونی: آگرے میں انقلابی عوام اور فوج کی کمان سنبھالی۔ بیگم حضرت محل اور مولانا احمد اللہ شاہ کے ساتھ تمام معرکوں میں شامل رہے۔ بیگم حضرت محل کی فوج کے ساتھ نیپال چلے گئے۔
- مولانا سید عالم علی: مراد آباد کے امامِ شہر تھے۔ تحریک میں سرگرم حصہ لیا۔ مجرموں کی فہرست میں نام تھا لیکن سر سید احمد خان کی کوششوں سے چھوٹ گئے۔
- مولوی علاء الدین: دکن کے مشہور علماء میں سے تھے۔ حیدر آباد دکن کے انقلابی عوام نے انہی کی قیادت میں انگریز ریزیڈنسی پر حملہ کیا تھا۔
- مولانا جلیل: علی گڑھ کے امامِ شہر اور خطیب۔ جنگ کا بگل بجتے ہی پانچ ہزار مجاہدین کے ساتھ میدان میں آئے اور انگریزوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔
- مولوی واعظ الحق: پٹنہ کے مشہور عالم۔ بہار کی تمام خفیہ مجالس میں شریک رہے۔ تحریک کی ناکامی کے بعد مکہ معظمہ چلے گئے۔
- مولوی عبد القادر لدھیانوی: پنجاب میں آزادی کی تحریک کو پروان چڑھایا۔ 1857ء کی جنگ میں اپنے بیٹوں کے ساتھ حصہ لیا۔ تحریک کی ناکامی کے بعد دہلی آ گئے اور روپوش ہو گئے۔
- سید محمد امین غازی: امروہہ کے سادات خانوادے کے فرد تھے۔ سید احمد شہید کے ساتھی، 1857ء کی جنگِ آزادی میں عملی حصہ لیا۔
مسلمانوں کی صحافتی اور فکری جدوجہد
آزادی کی تحریک میں مسلمانوں نے صرف میدانِ سیاست ہی میں کردار ادا نہیں کیا، بلکہ قلم و قرطاس کے ذریعے بھی ہندوستان کے باشندوں میں آزادی کا شعور پیدا کیا۔ اخبارات اور رسائل نے برطانوی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی اور عوام کو اپنے حقوق سے آگاہ کیا۔ اہلِ قلم نے اپنی تحریروں کے ذریعے غلامی کے نقصانات اور آزادی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس دور میں صحافت محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں تھی، بلکہ قومی بیداری اور سیاسی شعور کی ایک مؤثر طاقت بھی تھی۔
علماء اور مشائخ نے بھی عوام کی دینی و اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور وطن کی آزادی کے جذبے کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے لوگوں نے قید و بند برداشت کی، جلاوطنی اختیار کی اور اپنی آسائشوں کو ترک کرکے قومی جدوجہد میں حصہ لیا۔
علماء اور مشائخ نے بھی عوام کی دینی و اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور وطن کی آزادی کے جذبے کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے لوگوں نے قید و بند برداشت کی، جلاوطنی اختیار کی اور اپنی آسائشوں کو ترک کرکے قومی جدوجہد میں حصہ لیا۔
مسلمانوں کی قربانیاں اور جذبۂ حریت
آزادی کی جدوجہد میں قربانی کا جذبہ محض چند معروف شخصیات تک محدود نہیں تھا۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بے شمار عام مسلمانوں نے بھی اپنے اپنے دائرۂ کار میں آزادی کی تحریک کا ساتھ دیا۔ کسی نے مالی تعاون کیا، کسی نے مجاہدین کو سہارا دیا، کسی نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور کسی نے اپنی جان و مال کی قربانی پیش کی۔ تاریخ کے صفحات میں بہت سے ایسے افراد کے نام محفوظ نہیں ہو سکے، لیکن ان کی قربانیاں آزادی کی بنیادوں میں شامل ہیں۔
یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ آزادی کی جدوجہد مختلف مذاہب، علاقوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی مشترکہ کوششوں سے آگے بڑھی۔ مسلمانوں نے اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مل کر مختلف مراحل میں برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کی۔ یہی اجتماعی جدوجہد بالآخر آزادی کی منزل تک پہنچی۔
معلوم ہوا کہ ان شخصیات کا زمانہ، طریقۂ جدوجہد اور سیاسی نظریات ایک دوسرے سے مختلف تھے، لیکن برطانوی دور کی تاریخ میں ان سب کے کردار اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ کسی نے قلم و صحافت کے ذریعے، کسی نے سیاست و خطابت کے ذریعے، کسی نے پُرامن مزاحمت کے ذریعے اور کسی نے 1857ء کی عملی مزاحمت کے ذریعے برطانوی اقتدار کے خلاف جدوجہد کی۔
یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ آزادی کی جدوجہد مختلف مذاہب، علاقوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی مشترکہ کوششوں سے آگے بڑھی۔ مسلمانوں نے اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مل کر مختلف مراحل میں برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کی۔ یہی اجتماعی جدوجہد بالآخر آزادی کی منزل تک پہنچی۔
معلوم ہوا کہ ان شخصیات کا زمانہ، طریقۂ جدوجہد اور سیاسی نظریات ایک دوسرے سے مختلف تھے، لیکن برطانوی دور کی تاریخ میں ان سب کے کردار اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ کسی نے قلم و صحافت کے ذریعے، کسی نے سیاست و خطابت کے ذریعے، کسی نے پُرامن مزاحمت کے ذریعے اور کسی نے 1857ء کی عملی مزاحمت کے ذریعے برطانوی اقتدار کے خلاف جدوجہد کی۔
آزادی کی نعمت اور ہماری ذمہ داریاں
آج ہم جس آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، وہ ہمارے اسلاف کی بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے۔ آزادی صرف غلامی کی زنجیروں سے نجات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم ذمہ داری بھی ہے۔ ایک آزاد ملک کے شہری کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے وطن کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کریں، قانون کی پاسداری کریں، تعلیم حاصل کریں، محنت کو اپنا شعار بنائیں اور ملک کے تمام شہریوں کے حقوق کا احترام کریں۔
خاص طور پر نئی نسل کو آزادی کی تاریخ سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر نوجوان اپنے اسلاف کی قربانیوں اور جدوجہد سے واقف ہوں گے تو ان کے اندر وطن سے محبت، ذمہ داری اور خدمت کا جذبہ مزید مضبوط ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ آزادی کو محض ایک سالانہ جشن کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ اسے ایک ایسی نعمت سمجھیں جس کی حفاظت اتحاد، اخوت، دیانت داری اور مسلسل محنت سے کی جاتی ہے۔
خاص طور پر نئی نسل کو آزادی کی تاریخ سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر نوجوان اپنے اسلاف کی قربانیوں اور جدوجہد سے واقف ہوں گے تو ان کے اندر وطن سے محبت، ذمہ داری اور خدمت کا جذبہ مزید مضبوط ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ آزادی کو محض ایک سالانہ جشن کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ اسے ایک ایسی نعمت سمجھیں جس کی حفاظت اتحاد، اخوت، دیانت داری اور مسلسل محنت سے کی جاتی ہے۔
خلاصۂ کلام
ہندوستان کی آزادی کی داستان محض سیاسی تبدیلی کی داستان نہیں، بلکہ یہ عزم و استقامت، ایثار و قربانی اور حریتِ فکر و عمل کی ایک عظیم داستان ہے۔ 1857ء کی پہلی صدائے حریت سے 1947ء کی صبحِ آزادی تک مسلمانوں نے جس ثابت قدمی، بصیرت اور جاں نثاری کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخِ ہند کا ناقابلِ فراموش باب ہے۔ کسی نے میدانِ عمل میں جان نچھاور کی، کسی نے قلم کو مشعلِ راہ بنایا، کسی نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور کسی نے اپنی تمام تر صلاحیتیں تحریکِ آزادی کے لیے وقف کر دیں۔
آج ہم جس آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، وہ ہمارے اسلاف کی بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے۔ اس لیے یومِ آزادی کا تقاضا صرف پرچم کشائی اور جشنِ مسرت تک محدود نہیں، بلکہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی ایک نعمت بھی ہے اور امانت بھی۔ اس امانت کی حفاظت، ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینا، باہمی اتحاد کو فروغ دینا اور وطن کے تمام شہریوں کے حقوق کا احترام کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
آج ہم جس آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، وہ ہمارے اسلاف کی بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے۔ اس لیے یومِ آزادی کا تقاضا صرف پرچم کشائی اور جشنِ مسرت تک محدود نہیں، بلکہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی ایک نعمت بھی ہے اور امانت بھی۔ اس امانت کی حفاظت، ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینا، باہمی اتحاد کو فروغ دینا اور وطن کے تمام شہریوں کے حقوق کا احترام کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
آئیے! یومِ آزادی کے اس موقع پر ہم ان تمام مجاہدینِ آزادی کو خراجِ عقیدت پیش کریں جنہوں نے اپنے خون سے آزادی کی شمع روشن کی، اور عہد کریں کہ ہم اپنے اسلاف کی قربانیوں کو فراموش نہیں کریں گے۔ کیونکہ قومیں صرف اپنے ماضی پر فخر کرنے سے زندہ نہیں رہتیں، بلکہ اپنے ماضی سے سبق لے کر اپنے مستقبل کی تعمیر کرتی ہیں۔
یہی آزادی کا حقیقی احترام، یہی مجاہدینِ آزادی کے لیے سچا خراجِ عقیدت، اور یہی یومِ آزادی کا اصل پیغام ہے۔
یہی آزادی کا حقیقی احترام، یہی مجاہدینِ آزادی کے لیے سچا خراجِ عقیدت، اور یہی یومِ آزادی کا اصل پیغام ہے۔