حاجیوں سے دعا کروائیں!
ہر مسلمان کے دل میں یہ دیرینہ آرزو مچلتی رہتی ہے کہ زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ حجِ بیتُ اللہ کی سعادت نصیب ہو، خانۂ کعبہ کی زیارت سے آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور مدینۂ منورہ کی پُرنور گلیوں میں حاضری کا شرف حاصل ہو۔ واقعی خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے حج و عمرہ کی سعادت عطا فرماتا ہے، اپنے مقدس گھر کی حاضری کے لیے منتخب کرتا ہے اور بارگاہِ رسالت میں حاضری کا پروانہ عطا فرما کر مدینۂ منورہ کی مبارک فضاؤں سے فیض یاب ہونے کا موقع عنایت فرماتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت، عظیم سعادت اور بے مثال خوش بختی ہے کہ بندہ لبیک اللّٰہم لبیک کی صدائیں بلند کرتا ہوا حرمِ کعبہ پہنچے اور پھر بارگاہِ سیدِ عالم ﷺ میں حاضر ہو کر سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کرے۔
عنقریب حج کے مبارک ارکان ادا کرکے حجاجِ کرام اپنے اپنے وطن واپس آنے والے ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک نہایت قیمتی اور سنہرا موقع ہے کہ ہم ان خوش نصیب حاجیوں سے اپنے لیے، اپنے والدین، اہلِ خانہ اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے دعائے مغفرت کروائیں۔
حاجی کے لیے دعائے مصطفیٰ ﷺ
حاجی اللہ تعالیٰ کے خاص مہمان اور اس کے دربار کے معزز وفد ہوتے ہیں، ان کی دعاؤں کو بارگاہِ الٰہی میں خاص قبولیت حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احادیثِ مبارکہ میں حاجیوں سے دعا کروانے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ چنانچہ نبیِ کریم، رؤفٌ رَّحیم ﷺ نے خود بھی حجاجِ کرام کے لیے دعائیں فرمائیں اور ان کے مقام و مرتبے کو بیان فرمایا۔
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْحَاجِّ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُ الْحَاجُّ
ترجمہ: اے اللہ! حاجیوں کی مغفرت فرما اور اس کی بھی بخشش فرما جس کے لیے حاجی دعائے مغفرت کرتا ہے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ، 3/132، الحدیث: 12658)
الْحُجَّاجُ وَالْعُمَّارُ، وَفْدُ اللَّهِ اِنْ دَعَوْهُ اَجَابَهُمْ وَاِنِ اسْتَغْفِرُوه غَفَرَ لَهُمْ
ترجمہ: حاجی اور عمرہ کرنے والے اللہ پاک کا وفد ہیں، اگر یہ رَبّ سے دُعا کریں تو اللہ قبول فرماتا ہے، اور اگر یہ اللہ پاک سے بخشش چاہیں تو اللہ ان کو بخش دیتا ہے۔
(معجم اوسط، 6/247، الحدیث: 6311)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"خواہ حج اکبر یعنی حج کرے یا حج اصغر یعنی عمرہ کرے، دونوں کی دعائیں اپنے وطن تک آنے تک قبول ہیں۔ اس لیے حجاج سے دعائیں کراتے ہیں۔"
(مرآۃ المناجیح، 4/484)
امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا قادری برکاتی رحمۃُ اللہ علیہ جن کی دعا قبول ہے، ان لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "حاجی کی دعا جب تک اپنے گھر پہنچے۔"
(فضائلِ دعا، ص: 222)
یہاں پر دو احادیث بھی بیان کی گئی ہیں؛ ملاحظہ فرمائیں!
❶ پہلی حدیث: حدیث شریف میں ہے: جب تو حاجی سے ملے، اسے سلام کر اور مصافحہ کر اور درخواست کر کہ وہ تیرے لئے استغفار کرے، قبل اس کے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو کیونکہ وہ مغفور (جس کی بخشش ہو چکی ہو) ہے۔
(رواہ الامام احمد)
❷ دوسری حدیث: دوسری حدیث شریف میں ہے: حاجی کی دعا رَدّ نہیں ہوتی، جب تک پلٹے۔
(رواہ البیہقی۔ فضائلِ دعا، ص: 222)
ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا!
حاجی کی دعا کی اہمیت، عظمت اور بارگاہِ الٰہی میں اس کی قبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود نبیِ کریم، رؤوفٌ رَّحیم ﷺ نے عمرہ کے سفر پر روانہ ہونے والے اپنے ایک صحابی سے دعا کی درخواست فرمائی۔ چنانچہ احادیثِ مبارکہ میں مذکور ہے کہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بارگاہِ نبوی ﷺ میں عمرہ کا اذن حاصل کرنے پہنچے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَا تَنْسَنَا يَا أَخِي مِنْ دُعَائِكَ
ترجمہ: اے میرے بھائی! اپنی دعاؤں میں ہمیں نہ بھولنا!
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضور اکرم ﷺ کی یہ ایک بات ایسی خوبصورت اور انمول ہے کہ اس کے مقابلے میں پوری دنیا کی دولت بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
(سنن ابی داود، 2/80، حدیث: 1498)
اے عاشقانِ رسول! جب سرکارِ دو عالم ﷺ اپنے امتی کو دعا کی تلقین فرمائیں اور اپنی ذاتِ اقدس کے لیے بھی دعا کی درخواست ارشاد فرمائیں تو اس سے حاجی و معتمر کی دعا کے شرف، اس کی مقبولیت اور اس کی عظمت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
لہٰذا جب کسی حاجی سے ملاقات ہو تو اس مبارک موقع کو غنیمت جانتے ہوئے عاجزی کے ساتھ اپنے لیے دعاؤں کی درخواست ضرور کرنی چاہیے، شاید انہی مبارک دعاؤں کی برکت سے ہماری مغفرت ہو جائے اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں نصیب ہو جائیں۔