سنیں گے سب کی، لیکن کریں گے من کی
آج کل دیکھا جا رہا ہے کہ خود کو ہوشیار اور ذہین سمجھنے والے لوگ یہ جملہ بڑی آسانی سے بول دیتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ جملہ اسلام کے موافق ہے یا نہیں؟ میری رائے میں یہ جملہ ہرگز اسلام کے موافق نہیں ہے۔
ہمارے دینِ اسلام نے ہمیں ایرے غیرے لوگوں کی باتیں سننے اور ان سے علم حاصل کرنے سے منع کیا ہے، خاص طور پر ان لوگوں سے جن کے عقائد میں خرابی ہو یا جو دین کے معاملے میں گمراہ ہوں۔ لیکن آج کے دور میں ہماری نوجوان نسل یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہر کسی کی تقریریں اور ویڈیوز دیکھ رہی ہے۔ یہاں تک کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ شخص اہلِ حدیث ہے یا اس کے عقائد خراب ہیں، پھر بھی اسے سن رہے ہیں۔ اور جب ان سے سوال کیا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں:
"ہم تو بس سن رہے ہیں، عمل تھوڑی کر رہے ہیں"۔
فتنۂ گمراہی اور حدیثِ پاک
ایسے لوگوں کو اس حدیثِ پاک سے سبق لینا چاہیے جس میں ارشاد فرمایا گیا:
عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ
ترجمہ: بے شک یہ علم تمہارا دین ہے تو غور سے دیکھو تم کس سے اپنا دین حاصل کر رہے ہو۔
(رواہ مسلم)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ علمِ دین کا معاملہ بے حد نازک اور حساس ہے۔ علم حاصل کرنے کا مطلب ہے کہ آپ دین کی بنیاد اسی شخص کی باتوں پر رکھ رہے ہیں جس سے آپ یہ علم لے رہے ہیں۔ اب اگر ہماری نوجوان نسل گمراہ لوگوں کی باتیں سنیں گی یا ان کی محفلوں میں جائے گی، تو کیا وہ گمراہ نہیں ہوں گے؟ یقیناً ہوں گے۔
اسلاف کا محتاط طرزِ عمل
ہمارے بزرگانِ دین گمراہ یا بے دین لوگوں کی بات سننا پسند نہیں فرماتے تھے۔ حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ علیہ کے بارے میں مشہور واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ ایک عیسائی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: "میں آپ کو ایک دینی بات بتانا چاہتا ہوں"۔ حضرت محمد بن سیرین نے انکار کر دیا۔ اس شخص نے کہا: "ایک بات نہیں تو آدھی بات ہی سن لیں!"
حضرت نے فرمایا: "یا تو تم یہاں سے جاؤ یا میں یہاں سے چلا جاتا ہوں"۔
دیکھیے کہ ہمارے بزرگ دین کے معاملے میں کتنی احتیاط برتتے تھے کہ کسی بے دین کی ایک بات سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔
نوجوانوں کے لیے نصحیت
لہٰذا، میں نوجوانوں سے یہی کہنا چاہوں گا کہ گمراہ لوگوں کی تقاریر نہ سنیں، نہ ان کی صحبت میں جائیں، کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی کوئی ایک بات آپ کے دل میں جگہ بنا لے اور آپ کا ایمان خطرے میں پڑ جائے۔ بلکہ صرف اور صرف علماءِ حق اور علماءِ اہلِ سنت ہی سے علمِ دین حاصل کریں۔
اور اپنے مذکورہ جملے کو یوں تبدیل کریں:
"نہ سب کی سنیں گے، نہ اپنے من کی کریں گے، بلکہ صرف شریعت کو مانیں گے"۔
دعا
اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری نسلوں کو گمراہی سے محفوظ رکھے، ایمان کی حفاظت فرمائے، اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
بتاریخ: ۲۴ جمادی الاول ١٤٤٦ھ