خوفِ خدا کی عظیم دولت
اس حقیقت سے کوئی بھی مسلمان انکار نہیں کر سکتا کہ مختصر سی زندگی گزارنے کے بعد بروزِ قیامت ہر شخص کو اللہ ربُّ العزت کا سامنا کرنا ہے اور اپنے تمام اعمال کا حساب دینا ہے۔ اس کے بعد اگر رحمتِ خداوندی شاملِ حال ہوئی تو جنت کی ابدی نعمتیں نصیب ہوں گی، اور معاذ اللہ گناہوں کے سبب گرفت ہوئی تو دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس عظیم مقصد یعنی گناہوں سے بچنے اور تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرنے کے لیے دل میں خوفِ خدا کا ہونا بے حد ضروری ہے، کیونکہ اس کے بغیر بدی اور برائی سے بچنا بہت مشکل ہے۔
خالقِ کائنات اللہ ربُّ العالمین نے خود قرآنِ کریم میں اہلِ ایمان کو مخاطب کرکے خوفِ خدا کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ چنانچہ اللہ عزوجل قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ
ترجمۂ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
(پ11، سورۃ التوبہ: 119)
ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا
ترجمۂ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہا کرو۔
(پ22، سورۃ الاحزاب: 70)
احادیثِ مبارکہ میں بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صفتِ عظیمہ کو اپنانے کی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"دو نہایت اہم چیزوں کو نہ بھولو: جنت اور دوزخ۔"
یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے یہاں تک کہ آپ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ پھر فرمایا:
"اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم جنگلوں میں نکل جاؤ اور اپنے سروں پر خاک ڈالو۔"
(خوف خدا، ص 16، مکتبۃ المدینہ)
سید الانبیاء ﷺ کا خوفِ خدا
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور علیہ السلام کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس بیٹھے اور اتنا روئے کہ آپ کے چشمانِ اقدس سے نکلنے والے آنسوؤں سے مٹی تر ہو گئی۔ پھر فرمایا:
"اے بھائیو! اس قبر کے لیے تیاری کرو۔"
(خوفِ خدا، ص 42، مکتبۃ المدینہ)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خوفِ خدا
حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب اس قدر گریہ و زاری فرماتے کہ ایک میل کے فاصلے تک ان کے سینے میں ہونے والی گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی تھی۔
(خوفِ خدا، ص 44، مکتبۃ المدینہ)
کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا:
"کیا بات ہے کہ میں نے حضرت اسرافیل علیہ السلام کو کبھی مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا؟"
انہوں نے عرض کی:
"جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ہے تب سے وہ نہیں ہنسے۔"
(خوفِ خدا، ص 49، مکتبۃ المدینہ)
خلفائے راشدین کا خوفِ خدا
1️⃣ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
آپ نے ایک پرندے کو درخت پر بیٹھا دیکھا تو فرمایا:
"پرندے! تو کھاتا پیتا ہے اور تجھ پر کوئی حساب نہیں۔ کاش! میں بھی تیری طرح ہوتا اور مجھے انسان نہ بنایا جاتا۔"
(خوفِ خدا، ص 49، مکتبۃ المدینہ)
2️⃣ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت سیدنا عمر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو دیکھا کہ تین صفوں تک آپ کے رونے کی آواز پہنچ رہی تھی۔
ایک مرتبہ آپ نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا:
"کاش! میں یہ تنکا ہوتا، کاش! میرا ذکر نہ ہوتا، کاش! مجھے بھلا دیا گیا ہوتا، کاش! میری ماں نے مجھے جنا ہی نہ ہوتا۔"
(خوفِ خدا، ص 52، مکتبۃ المدینہ)
3️⃣ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
آپ نے فرمایا:
"اگر مجھے جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کیا جائے اور یہ معلوم نہ ہو کہ مجھے ان دونوں میں سے کس میں ڈالا جائے گا تو میں وہیں مٹی ہو جانا پسند کروں گا۔"
4️⃣ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت ضرار کنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
"میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے امیرالمؤمنین حضرت علی کو کئی مرتبہ اس حال میں دیکھا کہ رات کی تاریکی چھا جاتی، ستارے ٹمٹما رہے ہوتے اور آپ اپنے محراب میں لرزہ و ترسہ اپنی داڑھی مبارک پکڑے ہوئے ایسے بے چین بیٹھے ہوتے گویا زہریلے سانپ نے ڈس لیا ہو۔ آپ غم کے ماروں کی طرح روتے اور بے اختیار ہو کر کہتے:
'اے میرے رب! اے میرے رب!'
پھر دنیا سے مخاطب ہو کر فرماتے:
'اے دنیا! کیا تو مجھے دھوکا دینے آئی ہے؟ جا کسی اور کو دھوکا دے۔ میں تجھے تین طلاق دے چکا ہوں۔'"
(خوفِ خدا، ص 54، مکتبۃ المدینہ)
خلاصۂ کلام اور دعا
پیارے قارئین! یہ وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں گزار دی۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں ہوتا تھا۔ یہ قطعی جنتی لوگ ہیں بلکہ ان کے صدقے کتنے ہی لوگوں کو جنت نصیب ہوگی۔
اس کے باوجود ان کے خوفِ خدا کا عالم یہ تھا کہ اتنے نیک ہونے کے باوجود بھی ان کے دلوں میں خوفِ خدا اس قدر تھا کہ ہر وقت اللہ عزوجل سے ڈرتے اور اس سے رحمت و عافیت کا سوال کرتے تھے۔
لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے دلوں میں خوفِ خدا پیدا کریں، اللہ پاک کی گرفت اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہیں، اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں تاکہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا نصیب ہو سکے۔
تیرے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ
میں تھر تھر رہوں کانپتا یا الٰہی
اللہ ربُّ العزت ہمیں حقیقی معنوں میں اپنا خوف نصیب فرمائے اور ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین