شفاعت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے شمار خوبیوں سے نوازا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا سردار بنایا۔ مخلوق میں سب سے افضل و اعلیٰ ذات ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے۔ اللہ ربّ العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شفیع المذنبین، رحمت للعالمین بناکر بھیجا۔
بہت سے کم علم لوگ اس پر نکتہ چینی کرتے ہیں، جو علم کے نام پر جہالت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا ثبوت تو قرآن و حدیث سے ملتا ہے۔ جہاں قرآن پاک کی کئی آیات شفاعت پر دلالت کرتی ہیں، وہیں سینکڑوں احادیث شفاعت کے بارے میں وارد ہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے 40 احادیث اپنے رسالہ "اسماع الأربعین فی شفاعۃ سید المحبوبین" میں جمع کی ہیں۔
حصولِ برکت کے لیے ایک آیت مبارکہ اور چند ایک احادیثِ طیبہ آپ کے گوش گزار کرتا ہوں، ملاحظہ فرمائیں:
قرآنی دلیل اور مقامِ محمود
اللہ رب العزت قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا
ترجمہ: قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقامِ محمود پر فائز کرے۔
(سورہ الإسراء، آیت 79)
حضور شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی گئی کہ مقامِ محمود کیا ہے؟ فرمایا: "ھو الشفاعة" (وہ شفاعت ہے)۔
(جامع الترمذی، ابواب التفسیر، سورہ الإسراء، حدیث: 3137)
قرآن پاک کی بہت سی آیات حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے قیامت کے دن شفاعت کرنے پر ہم لوگوں کی رہنمائی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اور جو بے علم لوگ ہیں، ان لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ حضور شفیع المذنبین ہیں، لیکن یہ بغض و عداوت کی وجہ سے اس کے منکر ہیں۔ لہٰذا ہم عشاقانِ رسول کو چاہیے کہ اپنے گردوپیش کے ماحول اور اپنی صحبتوں کی پاکیزگی کا خیال رکھیں، اور منکرینِ شفاعت سے کوسوں دور ہو جائیں اور محبینِ شفاعت سے محبوب ہو جائیں۔
احادیثِ طیبہ
پہلی حدیث:
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اختیار دیا گیا کہ شفاعت اور آدھی امت کے جنت میں داخل ہونے میں سے ایک چیز چن لوں، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا، کیونکہ وہ عام ہو گی اور کافی ہو گی، کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ شفاعت متقیوں کے لیے ہے؟ نہیں، بلکہ یہ ایسے گناہگاروں کے لیے ہے جو غلطی کرنے والے اور گناہوں سے آلودہ ہوں گے“۔
(سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، حدیث: 4311، ص 980)
دوسری حدیث:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔ حضور شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي
ترجمہ: میری شفاعت قیامت کے دن میری امت میں ان لوگوں کے لیے ہے جو کبیرہ گناہ والے ہیں۔
(سنن ابن ماجہ، ابواب الزہد، باب ذکر الشفاعۃ، حدیث: 4310، ص 980)
تیسری حدیث:
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الذُّنُوبِ مِنْ أُمَّتِي
ترجمہ: میری شفاعت میرے گناہگار امتیوں کے لیے ہے۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: "وإن زنا وإن سرق" (اگرچہ زانی ہو اور چور ہو؟)۔ فرمایا: "وإن زنا وإن سرق علی رغم أنف أبي درداء" (اگرچہ زانی ہو اور چور ہو، برخلاف خواہشِ ابو درداء کے)۔
(تاریخ بغداد، 1/4، حدیث: 16)
کلامِ رضا اور عقیدۂ شفاعت
کچھ لوگوں نے شفاعت کا انکار کیا۔ تو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے لڑی میں پروئے موتیوں کی طرح کچھ یوں اشعار ترتیب فرمائے:
آپ درگاہِ خدا میں ہیں وجیہ
ہاں شفاعت بِالْوَجَاہَتْ کیجیے
حق تمہیں فرما چکا اپنا حبیب
اب شفاعت بِالْمَحَبَّت کیجیے
إذن کب کا مل چکا اب تو حضور
ہم غریبوں کی شفاعت کیجیے
تو ایسی بے شمار احادیث ہمیں شفاعت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا درس دیتی ہوئی نظر آتی ہیں، لیکن جن کی آنکھوں پر پردہ ہو، جن کے کان بہرے ہوں، تو ان کو یہ احادیث نظر آنے کے باوجود بھی نظر نہیں آتیں۔ ایسے لوگوں کو اپنے انجام پر غور و خوض کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے۔
خلاصۂ کلام
پیارے اور محترم اسلامی بھائیو! اس ساری گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی شفاعت بروزِ محشر لازمی و برحق ہے۔ اس روز آپ علیہ السلام ہم گناہگاروں پر مہربان ہوں گے اور ہم عشاقانِ رسول کی شفاعت فرما کر ساتھ جنت میں داخل فرمائیں گے۔
تبھی تو اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرضوان فرماتے ہیں:
پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے
آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے
اللہ تعالیٰ ہمیں حضور شفیع المذنبین کی شفاعت سے سرفراز فرمائے اور ہماری مغفرت فرمائے، آمین یا رب العالمین۔