اخلاقِ محمد ﷺ: ایک کامل نمونہ
جب کوئی قوم، علاقہ یا انسان خسارے میں گرا ہو، تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اس نے اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ آج کے اس پرفتن دور میں مسلمانوں کو جن رسوائیوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کی جڑ بھی یہی ہے کہ ہم نے اخلاقیات کو ذہن و دماغ سے باہر کر دیا ہے۔ جبکہ مسلمان جس نبی ﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں، ان کی تعلیمات اور نجی زندگی حسنِ اخلاق سے مزین ہے۔ آپ ﷺ اپنی ذات سے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: "بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ" یعنی میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔
علامہ عبد المصطفٰی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ محاسنِ اَخلاق کے تمام گوشوں کے جامع تھے۔ یعنی حِلم و عَفْو، رحم و کرم، عدل و انصاف، جود و سخا، ایثار و قربانی، مہمان نوازی، عدمِ تشدُّد، شجاعت، ایفائِ عہد، حسنِ معاملہ، صبر وقناعت، نرم گفتاری، خوش روئی، ملنساری، مساوات، غمخواری، سادگی و بے تکلُّفی، تواضع واِنکساری اور حیاداری کی اتنی بلند منزلوں پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فائز و سرفراز ہیں کہ حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ایک جملے میں اس کی صحیح تصویر کھینچتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ‘ یعنی تعلیماتِ قرآن پر پورا پورا عمل یہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَخلاق تھے۔“
(سیرتِ مصطفٰی، ص 600)
احادیثِ مبارکہ
حسنِ اخلاق کی اہمیت کے حوالے سے دو احادیثِ مبارکہ آپ کی خدمت میں پیش ہیں:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَبْلُغُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ، وَأَظُنُّهُ قَالَ: الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ”بندہ حسنِ اخلاق کی وجہ سے دن میں روزہ رکھنے اور رات میں قیام کرنے والوں کا درجہ پا لیتا ہے۔“
(معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد / ٦٢٨٣)
حدثنا أبو الوليد الطيالسي وحفص بن عمر قالا حدثنا ح و حدثنا ابن كثير أخبرنا شعبة عن القاسم بن أبي بزة عن عطاء الكيخاراني عن أم الدرداء عن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: مَا مِنْ شَيْءٍ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ
ترجمہ: حضرت ابو درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ”میزانِ عمل میں حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں۔“
(ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی حسن الخلق، ٤٧٩٩)
خلاصہ کلام
اچھے اخلاق ہمیں دنیا و آخرت میں فلاح و کامرانی سے ہمکنار کر دیتے ہیں جبکہ برے اخلاق ہمیں ہر مقام پر ذلیل و خوار کرتے ہیں۔ جب ہم حضور علیہ الصلوۃ والتسلیم کے اخلاقِ کریمہ کو اپنانے کی کوشش کریں گے، تو ہم اپنی زندگی میں کافی بدلاؤ اور نمایاں تبدیلی محسوس کریں گے۔
دعا
اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اچھے اخلاق کا پیکر بنا دے، اور حضور علیہ الصلوۃ والتسلیم کے اخلاق کا صدقہ عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔