سیرت پر مضامین لکھنے کا طریقہ
کسی بھی شخصیت کا تعارف، یعنی اس کی سوانح یا سیرت لکھنا بظاہر ایک آسان کام معلوم ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہ اس بات پر منحصر ہے کہ اس شخصیت کے متعلق کتنا معتبر مواد دستیاب ہے۔
جتنی آسانی سے مواد میسر ہوگا، اتنی ہی سہولت سے اس شخصیت پر مضمون یا سیرت لکھی جا سکے گی۔
مثلاً عشرۂ مبشرہ اور دیگر مشہور صحابۂ کرام علیہم الرضوان، تابعین، مشہور محدثینِ کرام جیسے صحاحِ ستہ کے مصنفین، اور مشہور اولیائے کرام جیسے غوثِ اعظم، خواجۂ اجمیر، امام احمد رضا رحمہم اللہ وغیرہ کے متعلق کثیر کتب دستیاب ہیں۔ اس وجہ سے ان کی سیرت پر مضمون لکھنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
البتہ جن بزرگوں پر کم کام ہوا ہو، یا جن کے حالاتِ زندگی پر مواد محدود ہو، ان کی سیرت پر لکھنے میں وقت لگ سکتا ہے، لیکن بنیادی طور پر سیرت نگاری مضمون کے دیگر اقسام سے آسان ہے۔
سوانح نگاری / تذکرہ نویسی کا خاکہ
سوانح یا سیرت لکھنے کے آغاز میں یہ چیزیں جمع کریں:
1. تمہید
تذکرہ نگاری کی اہمیت، مقصدِ تالیف و تحریر، جس شخصیت پر لکھا جا رہا ہے ان کا مختصر تعارف۔
2. تاریخ و مقامِ ولادت
تاریخِ ولادت (ہجری و عیسوی)، مقامِ ولادت (گاؤں/شہر/ملک)، پیدائش کے وقت کا خاندانی اور معاشرتی پس منظر۔
3. آباء و اجداد اور خاندان
والدین کا نام و مختصر تعارف، خاندان کی علمی، دینی یا صوفیانہ خدمات، خاندان کا سلسلہ نسب (اگر دستیاب ہو)۔
4. ابتدائی تعلیم و تربیت
مکتب و مدرسہ، قرآن پاک کی تعلیم، دینی ماحول میں پرورش۔
5. اعلیٰ تعلیم
کن مدارس یا جامعات سے تعلیم حاصل کی، اسفارِ علمی (اگر کیے)، سندِ فراغت کا سن و مقام۔
6. اساتذہ کرام
اہم اساتذہ کے نام اور ان کی علمی حیثیت، کن علوم و فنون میں استفادہ کیا۔
7. تلامذہ و شاگرد
نمایاں شاگردوں کے نام، ان کے علمی و دینی کارنامے۔
8. تدریسی خدمات
کہاں کہاں درس و تدریس کی، کن علوم میں خاص مہارت رہی، کتنے عرصے تک تدریس فرمائی۔
9. تصنیفی خدمات
کتابوں، رسائل یا فتاویٰ کی فہرست، علمی و تحقیقی اسلوب، تصانیف کا اثر اور علمی دنیا میں پذیرائی۔
10. اخلاق و عادات
حسنِ اخلاق، تواضع و انکساری، معاشرتی برتاؤ، طلبہ و عوام سے تعلق۔
11. زہد و تقویٰ
عبادت و ریاضت، شب بیداری اور ذکر و اذکار، دنیا سے بے رغبتی۔
12. سلسلہ طریقت
کس بزرگ کے دستِ حق پر بیعت کی، اجازت و خلافت کس سے حاصل ہوئی، خانقاہی خدمات۔
13. مسلک و عقیدہ
مسلک و مشرب کا بیان (اہل سنت و جماعت وغیرہ)، اعتقادی و فقہی وابستگی۔
14. ہم عصر علماء سے تعلقات
اس دور کے مشہور علماء سے تعلق یا خط و کتابت، باہمی علمی و روحانی روابط۔
15. وصال
تاریخِ وصال (ہجری و عیسوی)، مقامِ وصال، تدفین کا مقام، سوگواران / مزار کی حاضری کا حال۔
16. اثرات و خدمات کا جائزہ
علمی و روحانی اثرات، شاگردوں و مریدوں کی خدمات، بعد کے زمانے میں آپ کی یاد اور تذکرہ۔
17. خلاصہ / نتیجہ
شخصیت کا اجمالی خاکہ، آج کی نسل کے لیے دروس و اسباب وغیرہ۔
اہم نوٹ
یہ مختصر سا خاکہ ہے اس میں کچھ کمی بھی کی جا سکتی ہے اگر آپ اتنا بھی لکھتے ہیں تو سیرت پر آپ نے ایک اچھا مضمون لکھ لیا۔
لیکن یاد رہے: لکھنا لکھنے سے ہی آتا ہے صرف پلاننگ سے نہیں اور صرف مطالعہ سے بھی لکھنا نہیں آ سکتا ہاں علم میں اضافہ ہوگا البتہ تحریر ایک فن ہے جتنا لکھیں گے اتنا زیادہ نکھرے گا۔