مزید اپڈیٹس کا کام جاری ہے! اپنے مشورے دیجیے ہم سے رابطہ کریں!

اساتذۂ کرام سے رابطہ قائم رکھیں | طلبہ کے لیے اہم نصیحت

اساتذۂ کرام شاگردوں کے لیے روحانی والدین کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مضمون طلبہ کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ چھٹیوں یا فراغت کے بعد بھی اپنے اساتذہ سے
اساتذۂ کرام سے رابطہ قائم رکھیں | طلبہ کے لیے اہم نصیحت۔ اساتذۂ کرام شاگردوں کے لیے روحانی والدین کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مضمون طلبہ کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ چھٹیوں یا فراغت کے بعد بھی اپنے اساتذہ سے رابطہ قائم رکھیں، ان کی خدمت کریں، دعائیں لیتے رہیں اور ادب و احترام کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔ اس میں اساتذہ کی محبت، شفقت اور طلبہ کی ذمہ داریوں کو دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
✍️ قلمکار
مولانا عمران رضا عطاری مدنی بنارسی
📝 موضوع
اساتذۂ کرام سے رابطہ قائم رکھیں!
🏢 ادارہ
المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی انڈیا

اساتذۂ کرام سے رابطہ قائم رکھیں!

تقریباً دینی تعلیمی اداروں میں چھٹیاں ہو چکی ہیں، طلبہ اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ پورے سال طلبہ اساتذہ سے فیض اٹھاتے رہے؛ ملاقات، دست بوسی، درس میں شرکت، سوالات کے جوابات، دینی و دنیوی مختلف امور میں تربیت اور بہت کچھ۔
لیکن اب یہ سلسلہ عید تک کے لیے موقوف ہو چکا ہے۔ کئی سارے طلبہ جب سالانہ امتحان کے بعد اساتذۂ کرام سے جدا ہوتے ہیں تو اساتذہ کی شفقت و محبت، حسنِ اخلاق اور دینی رہنمائی یاد کر کے ان کی آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں، بالخصوص وہ طلبہ جو فضیلت میں ہوتے ہیں، جن کا بظاہر تعلیمی سلسلہ مکمل ہو چکا ہوتا ہے۔ ان کی کیفیت اور جذبات الگ ہی ہوتے ہیں۔

میں نے خود بھی اس بات کو محسوس کیا ہے۔ جن دنوں ہم درجۂ خامسہ میں جامعۃ المدینہ (فیضانِ عطار) میں زیرِ تعلیم تھے اور سالانہ تعطیل کے موقع پر ہمارے دو اہم اساتذہ:
• مفتی وسیم اکرم رضوی مصباحی
• مفتی سرفراز احمد مصباحی
گھر کے لیے روانہ ہو رہے تھے، اس وقت مجھ سمیت کئی طلبہ کی آنکھیں اشک بار اور دل بے قرار تھے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ رقت آمیز منظر اس وقت تھا جب ہم درجۂ فضیلت میں تھے اور اساتذۂ کرام گھر کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے کہ کثیر طلبہ رو رہے تھے، کچھ ایسے بھی تھے جن کی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔

”آپ لوگ بہت یاد آئیں گے“

ایک مرتبہ دورۂ حدیث شریف میں ہمارے استاذ، مفتی فضل حق مصباحی صاحب، حدیث کا درس دے رہے تھے۔ امتحان کے ایام تھے۔ استاذِ محترم فرمانے لگے کہ عنقریب آپ لوگ چلے جائیں گے۔ کئی سال تک آپ لوگوں کو پڑھایا، آپ لوگوں کا درجہ بھی بہت اچھا تھا، طلبہ باذوق اور محنتی تھے۔ اب آپ لوگ چلے جائیں گے، بہت یاد آئیں گے۔
یہ کہہ کر استاذِ محترم کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور طلبہ بھی رونے لگے۔ اللہ اللہ!

یقیناً یہ اساتذۂ کرام کی محبت، شفقت اور الفت ہی کا اثر ہوتا ہے کہ وہ ہمیں دینی علم سکھانے والے ہمارے والد کی طرح ہوتے ہیں، جو ہر موڑ پر ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ اساتذۂ کرام کبھی اپنے شاگرد کا برا نہیں چاہتے۔ ان کی قلبی خواہش یہی ہوتی ہے کہ میرا ہر شاگرد دین و دنیا دونوں جہتوں سے خوب ترقی کرے اور آگے بڑھے۔ استاذ کبھی اپنے تلمیذ کی کامیابی دیکھ کر اس سے حسد نہیں کرتا بلکہ مزید خوش ہوتا اور دعائیں دیتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہمیشہ اپنے ان اساتذۂ کرام کا خیال رکھیں، ان سے دعائیں لیتے رہیں، مشکل وقت میں ان کی معاونت کریں اور سکھ دکھ میں ان کے ساتھ کھڑے رہیں۔

رابطے میں رہیں

کئی سارے طلبہ جب چھٹیوں میں گھر جاتے ہیں یا فارغ التحصیل ہوتے ہیں تو اپنے اساتذہ کو نسیان میں ڈال دیتے ہیں؛ نہ کوئی رابطہ، نہ تعلق، نہ ہی کوئی بات چیت۔ حالاں کہ فی زمانہ رابطہ انتہائی آسان ہو چکا ہے۔ واٹس ایپ اور کال کے ذریعے ہم ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھے اساتذۂ کرام سے ہم کلامی کا شرف پا سکتے ہیں، مگر اس قدر لاپروائی کہ بس!
بعض طلبہ کہتے ہیں کہ ہمیں استاذ صاحب سے بات کرنے میں ڈر لگتا ہے۔ جب کہ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ استاذ کوئی ایسی چیز نہیں کہ جسے دیکھ کر ڈر لگے۔ استاذ تو وہ ہستی ہے کہ جس کا تذکرہ بھی ہو تو دل چاہے کہ بات کر لوں، دست بوسی کا موقع میسر آ جائے اور ان کی کچھ دعائیں مل جائیں۔
لہٰذا ابھی سے نیت کریں کہ ان شاء اللہ الکریم اپنے اساتذۂ کرام سے رابطے میں رہیں گے، ملاقات، کال اور پیغام کے ذریعے فیض اٹھاتے رہیں گے۔

اساتذۂ کرام کا خیال رکھیں

تلامذہ کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ میرے استاذ کی مالی کیفیت کیا ہے۔ اگر وہ ضرورت مند ہوں تو ہر ممکن صورت میں ان کا تعاون کریں، بلکہ اگر ضرورت نہ بھی ہو تو کچھ نہ کچھ اپنا نصیب سمجھ کر خدمت میں پیش کرتے رہیں، اور اگر وہ قبول کر لیں تو اس پر ان کے شکر گزار ہوں۔
حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کا استاذ کے حوالے سے مشہور فرمان آپ نے سنا ہی ہوگا۔ اس ضمن میں کم از کم ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ ان کی خدمت کر جائیں۔ ماہِ رمضان اور عید کے موقع پر کچھ کپڑے یا رقم انہیں نذر کر دیں۔ آج تو چیزیں بہت آسان ہو گئی ہیں؛ موبائل اٹھائیں اور گوگل پے یا فون پے کے ذریعے کچھ نہ کچھ بھیج دیں۔
کبھی اساتذہ سے ملاقات کے لیے جائیں تو ان کے لیے اور ان کے بچوں کے لیے کچھ تحائف لیتے جائیں۔
مذکورہ باتوں پر عمل کریں تو ڈھیروں دعائیں ملیں گی اور بیڑا پار ہوگا، ان شاء اللہ الکریم۔

دعا

شاگرد کی ہے عزت استاذ کی بدولت
اللہ پاک ہمارے اساتذہ کو سلامت رکھے اور ان کے ساتھ مکہ مدینہ کی حاضری نصیب فرمائے۔ آمین

نوٹ: یہ تحریر احمد آباد سے ممبئی جاتے ہوئے ٹرین میں لکھی گئی۔
Cookie Consent
We serve cookies on this site to analyze traffic, remember your preferences, and optimize your experience.
NextGen Digital واٹس ایپ چیٹ پر آپ کو خوش آمدید
السلام علیکم ہم آپ کی کیا مدد کرسکتے ہئں؟?
Type here...