مزید اپڈیٹس کا کام جاری ہے! اپنے مشورے دیجیے ہم سے رابطہ کریں!

اپنے اسلاف کا تحفہ سنبھال کر رکھئے | ایمان کی حفاظت کی اہمیت

ہمارے اسلاف نے تبلیغِ اسلام، قربانیوں اور حسنِ اخلاق کے ذریعے ہمیں ایمان کی عظیم دولت عطا کی۔ خواجہ معین الدین چشتی، امام احمد رضا خان بریلوی اور علی
اپنے اسلاف کا تحفہ سنبھال کر رکھئے | ایمان کی حفاظت کی اہمیت۔ ہمارے اسلاف نے تبلیغِ اسلام، قربانیوں اور حسنِ اخلاق کے ذریعے ہمیں ایمان کی عظیم دولت عطا کی۔ خواجہ معین الدین چشتی، امام احمد رضا خان بریلوی اور علی ہجویری جیسے بزرگوں کی جدوجہد ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ مضمون نوجوان نسل کو یاد دلاتا ہے کہ ایمان ایک امانت ہے جس کی حفاظت ضروری ہے، خصوصاً اس دور میں جب مختلف ذرائع سے دین سے دور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ آئیے ہم بھی اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایمان، مساجد اور مدارس کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں۔
✍️ قلمکار
احمد رضا عطاری کچھوچھہ
📝 موضوع
اپنے اسلاف کا تحفہ سنبھال کر رکھئے
🏢 ادارہ
مدرستہ المدینہ فیضان صدّیق اکبر ڈیسا گجرات

اپنے اسلاف کا تحفہ سنبھال کر رکھئے

انسان اللہ عزوجل کی عظیم ترین مخلوق ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تمام انسانوں میں خوشبخت اور خوش قسمت وہ لوگ ہیں جن کے دل میں نور ایمان موجود ہے ایمان کی دولت مل جانا کسی نعمتِ عُظمیٰ سے کم نہیں۔ ہم اس پر اللہ ربُّ العالمین کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔

ہماری مسجدوں کے میناروں سے گونجتی ہوئی اذان کی صدائیں، مساجد و مدارس کا قائم شدہ نظام، سلامت خانقاہیں، گلی گلی، نگر نگر، بستی بستی اسلام کے ماننے والے، اور صبح و شام اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت و بندگی کرنے والے مسلمان — یہ سب کچھ ایسے ہی نہیں ہو گیا، بلکہ اس کے پیچھے ہمارے اسلاف کی جدوجہد، محبت و اخلاص، اور ان کی بے لوث قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

ذرا تاریخ کا مطالعہ کیجئے۔ جب ملکِ ہندوستان میں اسلام کی روشنی پہنچی تو کتنی سخت مشکلات درپیش تھیں، لیکن اس کے باوجود ہمارے اسلاف دردِ امت اور تبلیغِ دین کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے رہے اور شرک و کفر کے گھپ اندھیروں کو دور کرنے کے لیے، لوگوں کو راہِ ہدایت پر لانے کے لیے، اپنے اخلاق و کردار کے ذریعے اصلاح کا سامان کیا اور بھٹکتی ہوئی انسانیت کو صراطِ مستقیم پر گامزن کیا۔

خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً پندرہ سال کی عمر میں بخارا، سمرقند اور نیشاپور کا سفر اختیار کیا۔ جب مدینۂ منورہ میں تاجدارِ مدینہ، حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو “معین الدین” (یعنی دین کا مددگار) کا خطاب عطا ہوا اور نیکی کی دعوت کے لیے ہند کے شہر اجمیر جانے کا حکم ہوا۔
(اللہ کے خاص بندے، ص ۵۰۸ تا ۵۱۳)

خواجہ معین کا جانی دشمن اور آپ کا حسنِ اخلاق

سلطانُ الہند، عطائے رسول، سرکار خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ ایک بار لاہور سے اجمیر شریف جاتے ہوئے دہلی میں قیام پذیر تھے کہ ایک غیر مسلم شخص آپ کو قتل کرنے کے ارادے سے آپ کے پاس آیا۔ کشف کے ذریعے آپ کو اس کے ارادے کا علم ہو گیا۔ معلوم ہو جانے کے باوجود آپ اس سے بڑی شفقت و مہربانی سے ملے اور فرمایا:
"جس ارادے سے آئے ہو اسے پورا کرو۔"
یہ جملہ سن کر وہ شخص حیران ہو گیا، آپ کے قدموں پر گر گیا اور معافی کا طالب ہوا۔ آپ نے اسے معاف فرما دیا۔ وہ آپ کے کریمانہ انداز سے اس قدر متاثر ہوا کہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔
(حضرت خواجہ غریب نواز حیات و تعلیمات، ص ۴۰، ملخصاً)

امام عشق و محبت اور آپ پر طعن و تشنیع

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے حاسدین اور بعد کے ادوار میں علمی و نظریاتی اختلافات کی وجہ سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر طعن و تشنیع کی گئی، ان کی توہین کی گئی، حسد و بغض رکھا گیا اور انہیں حقیر سمجھا گیا، مگر آپ نے ہمیشہ علم و حق کا پرچم بلند رکھا۔

تبلیغِ اسلام اور داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ

اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے علی داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے گھر بار چھوڑنے کی قربانی دی۔ آپ نے شہرِ غزنی (افغانستان) کے محلہ ہجویری سے سفر اختیار کیا اور لاہور (مرکز الاولیاء) کو اپنا مسکن اور مدفن بنایا۔
اسی طرح بے شمار اولیائے کرام نے عیش و آرام ترک کیا، اپنا گھر بار چھوڑا، طرح طرح کی آزمائشیں برداشت کیں اور لوگوں کے دلوں کو توحید و رسالت کا گنجینہ بنایا۔

دورِ حاضر کا سب سے بڑا چیلنج

دورِ حاضر کا سب سے بڑا چیلنج اس امانت کی حفاظت ہے جو ہمارے سینوں میں ایمان کی صورت میں موجود ہے۔ آج جس طرح سے مسلم نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے اسلام کے خلاف ورغلا کر دین سے بیزار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ کسی سے بھی مخفی نہیں۔

اے خاصۂ خاصانِ رُسل! وقتِ دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ وہ امانت جو ہمارے اسلاف نے ایمان کی صورت میں ہمارے سپرد کی ہے، اس کی حفاظت کریں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی راستے پر گامزن رہ سکیں، تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کریں، مساجد و مدارس کی آبادکاری میں اپنا حصہ ملائیں تاکہ ہمارے اسلاف کی یہ امانتیں محفوظ رہ سکیں۔

دعا

اللہ ربُّ العالمین ہمارے ایمان و عقائد کی حفاظت فرمائے۔ آمین
Cookie Consent
We serve cookies on this site to analyze traffic, remember your preferences, and optimize your experience.
NextGen Digital واٹس ایپ چیٹ پر آپ کو خوش آمدید
السلام علیکم ہم آپ کی کیا مدد کرسکتے ہئں؟?
Type here...