تقلید کی اقسام اور اس کا شرعی حکم | قرآن و حدیث کی روشنی میں

تقلید کی کتنی قسمیں ہیں؟ جانیں تقلیدِ حقیقی اور تقلیدِ غیر حقیقی میں بنیادی فرق۔ کیا قرآن میں تقلید کی ممانعت ہے یا حکم؟ اس مضمون میں پڑھیں کہ ائمہ کی
تقلید کی اقسام اور اس کا شرعی حکم | قرآن و حدیث کی روشنی میں
کتبہ: مولانا سلیم رضا مدنی تقلید کی اقسام اور ان کا حکم تقلید کی دو قسمیں ہیں — ایک وہ جس کی مذمت قرآن مجید نے بیان کی، اور دوسری وہ جس پر صدیوں سےامت عمل کرتی آرہی ہے۔ پہلی کو تقلیدِ حقیقی، اور دوسری کو تقلیدِ غیر حقیقی کہتے ہیں۔ دنیا کے طول و عرض میں موجود ائمہ اربعہ کے مقلدین در اصل تقلید حقیقی نہیں کرتے بلکہ تقلید غیر حقیقی کرتے ہیں۔ لیکن غیر مقلدین کی یہ پرانی روش ہے کہ جہاں کفار و مشرکین کے بارے میں آیت دیکھو، فوراً اپنے مخالف مسلمانوں پر چسپاں کر دو! یہ لوگ تقلید غیر حقیقی کو بھی شرک و بدعت کہتے نظر آتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے قرآن صرف انہی کے تفسیری تجزیے کا محتاج ہے۔ گویا چودہ سو سال سے امت کے ائمہ ،فقہا و محدثین اور مفسرین قرآن سے بھی زیادہ قرآن فہمی اب ان کے ہاتھ آئی ہے! اب آئیے ذررا تقلید کی ان دونوں اقسام کی تعریف اور حکم پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔ تقلید حقیقی تقلید حقیقی کی تعریف یہ ہے: (التقليد الحقيقى هو العمل بقول الغير من غير حجة اصلا) یعنی کسی کے ایسے قول پر عمل کرنا جس پرکسی طرح کی کوئی دلیل نہ ہو۔ (فتاوی رضویہ باب الطہارۃ ج ۱، ص ۲۸۳، طبع: مکتب…

ایک تبصرہ شائع کریں