پیارے اسلامی بھائیو!
رمضان المبارک امتِ محمدیہ کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظیم الشان نعمتوں میں سے ایک ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو دنیاوی مشغولیات سے بندے کو ہٹا کر اس کے دل، روح اور بدن کو پاک کر دیتا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے اس کے تعلق کو مضبوط کر دیتا ہے۔
لہٰذا مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس طرح اپنے دنیاوی امور کی خوب اچھے انداز سے تیاری کرتا اور ان کا اہتمام کرتا ہے، اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس عظیم الشان نعمت اور اطاعت والے مہینے کا بھی خوب اچھے انداز سے استقبال کرے اور اس کی تیاری کرے۔ ابھی ہمارے پاس رمضان المبارک کی تیاری کرنے کے لیے کچھ دن باقی بھی ہیں، تو رمضان المبارک کی تیاری ہمارے سلف صالحین کس انداز میں کرتے تھے؟ آئیے اس کا غور سے مطالعہ کرتے ہیں۔
سلف صالحین کی رمضان المبارک کے لیے تیاری
ایک بزرگ فرماتے ہیں:
لقد كان السلف الصالح رحمهم الله يدعون الله تعالى ستة أشهر أن يبلغهم شهر رمضان، ثم يدعونه خمسة أشهر بعده حتى يتقبل منهم.
"پہلے کے لوگ رمضان المبارک سے چھ مہینے پہلے رمضان المبارک کو پانے کی دعائیں کرتے تھے اور پانچ مہینے بعد تک رمضان میں کی ہوئی عبادتوں کے مقبول ہونے کے لیے دعا کرتے تھے۔"
(ابن رجب، لطائف المعارف، ص ۱۴۸)
شعبان کی تیاری
روي عن سيدنا أنس بن مالك رضي الله عنه أنه قال: كان المسلمون إذا دخل شعبان انكبّوا على المصاحف فقرؤوها، وأخرجوا زكاة أموالهم تقوية للضعيف والمسكين على صيام رمضان
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"جب شعبان کا مہینہ آتا تو مسلمان قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے اور پہلے ہی سے اپنے اموال کی زکوٰۃ بھی ادا کر دیتے تھے، تاکہ جو کمزور اور مسکین مسلمان ہیں، وہ رمضان المبارک میں عبادت کرنے کے لیے مضبوط ہو سکیں۔"
(ابن رجب، لطائف المعارف، ص ۱۳۵)
حضرت عمرو بن قیس رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
طوبى لمن أصلح نفسه قبل رمضان
"اس شخص کے لیے خوشخبری ہو جس نے رمضان سے پہلے خود کی اصلاح کر لی۔"
نیز حضرت عمرو بن قیس الملائی رحمۃ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ جب شعبان المعظم کا مہینہ آتا تو آپ اپنا کاروبار اور دکان بند کر دیتے اور قرآن پاک کے لیے خود کو فارغ کر لیتے تھے۔
حضرت سلمہ بن کہیل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"پہلے کے لوگ شعبان المعظم کے مہینے کو 'شہر القراء' (یعنی تلاوتِ قرآن کا مہینہ) کہتے تھے۔"
حضرت حسن بن سہیل رحمۃ اللہ علیہ شعبان المعظم اور رمضان میں کثرت سے تلاوتِ قرآن کرتے، اور آپ فرمایا کرتے تھے:
رَبِّ جَعَلْتَنِي بَيْنَ شَهْرَيْنِ عَظِيمَيْنِ
(ابن رجب، لطائف المعارف، ص ۱۳۵)
رمضان المبارک کی تیاری کے چند عملی طریقے
1. دعا اور استغفار میں مشغول ہونا
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رجب کا مہینہ آتا تو یہ دعا کثرت سے پڑھا کرتے تھے:
اللهم بارك لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان
یعنی اے اللہ پاک عزوجل ہمیں رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور رمضان سے ملا ۔
(الطبرانی، المعجم الأوسط، ج ۳، ص ۸۵، حدیث: ۳۹۳۹)
2. رمضان المبارک سے استفادے کی منصوبہ بندی کرنا
اکثر لوگ دنیاوی امور کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں، لیکن آخرت کی منصوبہ بندی کرنے والے کم لوگ ہیں۔ جب بندہ پہلے ہی سے یہ ذہن بنا لے کہ ان شاء اللہ رمضان المبارک سے خوب خوب استفادہ کرنا ہے، تو ان شاء اللہ وہ اس میں کامیاب بھی ہو جائے گا۔
3. رمضان المبارک کے احکامات سیکھنا
بندے کے روزے اور نماز تب ہی مقبول ہوں گے جب وہ درست اور صحیح ہوں۔
قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
یعنی اے لوگو! اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔
(القرآن، سورۃ الأنبیاء: ۷)
اپنے اعمال کو برباد ہونے سے بچانے کے متعلق اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ
اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے عمل باطل نہ کرو۔
(القرآن، سورۃ محمد: ۳۳)
4. دعوتِ اسلامی کے دینی اجتماعات میں شرکت کرنا
دعوتِ اسلامی میں سنت کے مطابق رمضان کے فضائل بیان کیے جاتے ہیں اور رمضان کے آنے کی خوشخبری دی جاتی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جاءكم شهر رمضان، شهر مبارك كتب الله عليكم صيامه فيه تفتح أبواب الجنة، وتغلق فيه أبواب الجحيم، وتغل فيه الشياطين، وفيه ليلة خير من ألف شهر، من حرم خيرها فقد حرم
"تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آیا، جو ایک بابرکت مہینہ ہے۔ اللہ نے اس میں تم پر روزے فرض کیے ہیں۔ اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو اس کی بھلائی سے محروم رہا، وہ حقیقت میں محروم ہو گیا۔"
(سنن النسائی، حدیث: ۲۱۰۸)
اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں شعبان میں برکت عطا فرمائے، رمضان سے صحت و عافیت کے ساتھ ملائے، اور رمضان المبارک میں خوب خوب عبادتیں کرنے، روزے رکھنے، قیام کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہِ النبی الأمین صلی اللہ علیہ وسلم۔