مزید اپڈیٹس کا کام جاری ہے! اپنے مشورے دیجیے ہم سے رابطہ کریں!

کتبِ علومِ حدیث کی روشنی میں افضلیتِ صدیق اکبر (رضی اللہ عنہ) کا تحقیقی جائزہ

کتبِ علومِ حدیث میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت پر کیا دلائل موجود ہیں؟ اصولِ حدیث اور اقوالِ محدثین کی روشنی میں مکمل تحقیقی مضمون پڑھیں
کتبِ علومِ حدیث کی روشنی میں افضلیتِ صدیق اکبر (رضی اللہ عنہ) کا تحقیقی جائزہ کتبِ علومِ حدیث میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت پر کیا دلائل موجود ہیں؟ اصولِ حدیث اور اقوالِ محدثین کی روشنی میں مکمل تحقیقی مضمون پڑھیں۔
✍️ قلمکار
مولانا عمران رضا عطاری مدنی بنارسی
📝 موضوع
کتب علوم حدیث اور افضلیت ابو بکر صدیق
🏢 ادارہ
المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی انڈیا
بسم الله الرحمن الرحيم

مسلمانون كا قطعي اجماعی عقيده ہے کہ ظاہر و باطن دونوں جہت سے تمام صحابہ میں سب سے افضل و اعلیٰ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، یعنی آپ کو فضیلتِ مطلقہ حاصل ہے، یہی قرآنی آیت ، احادیث متواتر، اور اجماع سے ثابت ہے، علما ومحدثین،فقہاو مفسرین اور مؤرخین نے اس مسئلے کی جابجا صراحت فرمائی، کئی علما ومحققین نے اس مسئلے پر کتابیں تصنیف کی، جس میں تشفی بخش گفتگو کرکے ،معترضین کے مسکت جوابات بھی دیے ہیں اور آج بھی اس موضوع پر لکھا جارہا ہے۔
یاد رہے ! اس عقیدے کا منکر گمراہ ہے۔ اس عقیدہ باطلہ سے توبہ فرض ہے ورنہ وہ سنی نہیں، جیساکہ امام اہل سنت سیدی امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ نے فتاویٰ رضویہ میں صراحت فرمائی۔

مناقب الشافعي للبيهقى میں ہے : ابو ثور رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:
الشافعى يقول: ما اختلف احد من الصحابة و التابعين في تفضيل ابي بكر وعمر وتقديمهما على جميع الصحابة.
ترجمہ : امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: تمام صحابہ سے ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی تقدیم اور ان کے افضل ہونے پر کسی صحابی و تابعی کا اختلاف نہیں ہے۔ (مناقب الشافعي للبيهقي، ج:١، ص:٤٣٤)

کتبِ علوم حدیث سے محدثین کی تصریحات

اب چند محدثین کی کتبِ علوم حدیث سے صراحت پڑھیں اور افضلیتِ صدیق اکبر کا جلوہ دیکھیں !

شیخ المحدثین امام تقی الدین ابن الصلاح عثمان بن عبد الرحمن (ت:643ھ) فرماتے ہیں:
أَفْضَلُهُمْ عَلَى الْإِطْلَاقِ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ إِنَّ جُمْهُورَ السَّلَفِ عَلَى تَقْدِيمِ عُثْمَانَ عَلَى عَلِيٍّ، وَقَدَّمَ أَهْلُ الْكُوفَةِ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ عَلِيًّا عَلَى عُثْمَانَ.
(معرفة أنواع علوم الحديث، ص:299، طبع: دار الفكر)

برہان الدین ابو اسحاق جعفری(ت: 732ھ) لکھتے ہیں:
وأفضلهم أَبُو بكر ثمَّ عمر ثمَّ عُثْمَان ثمَّ عَليّ.
(رسوم التحديث في علوم الحديث، ص:١٤٦، طبع: دار ابن حزم )

امام شرف الدين يحيي بن شرف نووي شافعي(ت:676ھ) رقم طراز هيں:
أفضلهم على الاطلاق أبو بكر، ثم عمر بإجماع أهل السنة، ثم عثمان، ثم علي، هذا قول جمهور أهل السنة، وحكى الخطابي عن أهل السنة من الكوفة تقديم علي على عثمان، وبه قال أبو بكر بن خزيمة.
(التقريب والتيسير لمعرفة سنن البشير النذير في أصول الحديث، ص:94، طبع: دار الكتاب العربي)

علامہ ابو الحسن علی اردبیلی تبریزی (ت: 746ھ) لکھتے ہیں:
أفضلهم على الإطلاق أبو بكر، ثم عمر. ثم جمهور السلف على تقديم عثمان على علي .
(لكافي في علوم الحديث، 1/705، طبع: الدار الأثرية، عمان)

علامہ برہان الدین ابناسی شافعی (ت:802) فرماتے ہیں:
أفضلهم على الإطلاق أبو بكر ثم عمر ثم إن جمهور السلف «على» تقديم عثمان على علي.
(الشذا الفياح من علوم ابن الصلاح، 2/501، طبع: مكتبة الرشد)

علامہ سراج الدین بلقینی شافعی (ت:805) لکھتے ہیں:
أفضلُهم على الإطلاق: أبو بكر.
(محاسن الاصطلاح، ص:495، طبع: دار المعارف)

علامہ ابو الفضل زین الدین عراقی شافعی (ت: 806ھ) فرماتے ہیں:
أجمعَ أهلُ السنةِ على أنَّ أفضلَ الصحابةِ بعدَ النبيِّ ﷺ على الإطلاقِ أبو بكرٍ، ثمَّ عمرُ.
(التبصرة والتذكرة = ألفية العراقي، 2/140، طبع: دار الكتب العلمية)

علامہ شمس الدین محمد بن عبد الرحمن سخاوی (ت:902ھ) رقم طراز ہیں:
وأفضلهم على الْإِطْلَاق عِنْد أهل السّنة إِجْمَاعًا أَبُو بكر، ثمَّ عمر، وَأما من بعدهمَا فالجمهور على أَنه عُثْمَان.
(الغاية في شرح الهداية في علم الرواية، ص233، طبع: مكتبة أولاد الشيخ للتراث)

خلاصہ کلام

ان تمام عبارات کا لب لباب اور خلاصہ یہی ہے کہ اہل سنت کے نزدیک مطلقا حضرت ابو بکر صدیق تمام صحابہ سے افضل و اعلیٰ ہیں ، پھر حضرت عمر ، پھر حضرت عثمان پر حضرت علی رضی اللہ عنہم۔ حضرت ابو بکر وعمر کی افضلیت پر اجماع ہے جب کہ حضرت عثمان کا مولاے کائنات حضرت مولیٰ علی مشکل کشا سے افضل ہونا جمہور علما کا قول ہے۔
محترم قارئین ! ہم نے اس مضمون میں چند کتب کے حوالے آپ کی نظر افروز کیے، وگرنہ اس موضوع پر صرف کتب علوم حدیث میں تتبع کیا جائے، تو کوئی بعید نہیں کہ پوری کتاب ہی تیار ہو جائے، اس عقیدے کی اہمیت کے پیشِ نظر علما نے بڑی صراحت و وضاحت کے ساتھ اس مسئلہ کو بیان فرمایا ہے، ہمیں چاہیے نہ صرف اس مسلمہ عقیدے پر قائم و دائم رہیں، بلکہ دوسروں کو بھی اسے عقیدے پر جمے رہنے کی تلقین و تنبیہ کرتے رہیں۔
خداے قادر و قیوم ہمیں اسی عقیدے پر جینا ،مرنا نصیب فرمائے اور کل قیامت کے دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صدقے طفیل نجات یافتہ لوگوں میں شامل فرمائے، آمین بجاہ خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ واٰلہ سلم

Cookie Consent
We serve cookies on this site to analyze traffic, remember your preferences, and optimize your experience.
NextGen Digital واٹس ایپ چیٹ پر آپ کو خوش آمدید
السلام علیکم ہم آپ کی کیا مدد کرسکتے ہئں؟?
Type here...