گمراہ لوگوں کو سننے کا حکم | قرآن و حدیث کی روشنی میں
سنیں گے سب کی لیکن کریں گے من کی کے جملے کی شرعی حیثیت پر ایک فکر انگیز مضمون از ساجد عطاری مدنی، جس میں قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح رہنمائی پیش کی
گمراہ لوگوں کو سننے کا حکم | قرآن و حدیث کی روشنی میں
✍️ قلمکار ساجد عطاری مدنی 📝 موضوع سنیں گے سب کی، لیکن کریں گے من کی 🏢 ادارہ جامعۃ المدینۃ انڈیا
سنیں گے سب کی، لیکن کریں گے من کی
آج کل دیکھا جا رہا ہے کہ خود کو ہوشیار اور ذہین سمجھنے والے لوگ یہ جملہ بڑی آسانی سے بول دیتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ جملہ اسلام کے موافق ہے یا نہیں؟ میری رائے میں یہ جملہ ہرگز اسلام کے موافق نہیں ہے۔
ہمارے دینِ اسلام نے ہمیں ایرے غیرے لوگوں کی باتیں سننے اور ان سے علم حاصل کرنے سے منع کیا ہے، خاص طور پر ان لوگوں سے جن کے عقائد میں خرابی ہو یا جو دین کے معاملے میں گمراہ ہوں۔ لیکن آج کے دور میں ہماری نوجوان نسل یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہر کسی کی تقریریں اور ویڈیوز دیکھ رہی ہے۔ یہاں تک کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ شخص اہلِ حدیث ہے یا اس کے عقائد خراب ہیں، پھر بھی اسے سن رہے ہیں۔ اور جب ان سے سوال کیا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں:
"ہم تو بس سن رہے ہیں، عمل تھوڑی کر رہے ہیں"۔
فتنۂ گمراہی اور حدیثِ پاک
ایسے لوگوں کو اس حدیثِ پاک سے سبق لینا چاہیے جس میں ارشاد فرمایا گیا:
عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: إِنّ…