خود کو مولائی کہنے والے دراصل شیعہ ہیں
#رد_شیعہ
اگر کوئی سنی کہلاتا ہو مگر حضرات شیخین کریمین رضی اللہ عنہما سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو افضل بتاتا ہو تو وہ ہرگز سنی نہیں بلکہ وہ بھی شیعہ ہی ہے۔ اور فقط شیعہ نہیں بلکہ غالی شیعہ اور رافضی ہے۔
اگر کوئی سنی کہلاتا ہو مگر حضرات شیخین کریمین رضی اللہ عنہما سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو افضل بتاتا ہو تو وہ ہرگز سنی نہیں بلکہ وہ بھی شیعہ ہی ہے۔ اور فقط شیعہ نہیں بلکہ غالی شیعہ اور رافضی ہے۔
علامہ ابنِ حجر عسقلانی کا فیصلہ
علامہ حافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني (٧٧٣ - ٨٥٢ ہـ) علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
فَمَنْ قَدَّمَهُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَهُوَ غَالٍ فِي تَشَيُّعِهِ، وَيُطْلَقُ عَلَيْهِ رَافِضِيٌّ، وَإِلَّا فَشِيعِيٌّ.
ترجمہ: پس جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو بکر و عمر پر مقدم کرے (افضل قرار دے) تو وہ غالی شیعہ ہے اور اس کو رافضی بھی کہا گیا ہے۔ ورنہ شیعہ تو بہر حال ہے ہی۔
(هدي الساري مقدمة فتح الباري، ص 460، طبع: المكتبة السلفية - مصر)
(هدي الساري مقدمة فتح الباري، ص 460، طبع: المكتبة السلفية - مصر)
خلاصۂ کلام
حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ کے اس قول سے معلوم ہوا کہ افضلیتِ مولا علی کا قائل اگرچہ خود کو مولائی کہے بلکہ سنی بھی کہے پھر بھی وہ شیعہ ہی ہے، اہلِ سنت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
10 اپریل 2026ء، بروز جمعہ