نظریۂ اسلام اور مساوات (Equality) – قرآن و حدیث کی روشنی میں | ساجد عطاری مدنی
اسلام میں مساوات اور انسانی برابری کا تصور قرآن و حدیث کی روشنی میں۔ اسلام نے نسل، رنگ اور مال کی بنیاد پر برتری کو رد کر کے تقویٰ کو معیار قرار دیا ہ
نظریۂ اسلام اور مساوات (Equality) – قرآن و حدیث کی روشنی میں | ساجد عطاری مدنی
✍️ قلمکار ساجد عطاری مدنی 📝 موضوع نظریۂ اسلام اور مساوات (Equality) – قرآن و حدیث کی روشنی میں 🏢 ادارہ جامعۃ المدینۃ انڈیا
نظریۂ اسلام اور مساوات (Equality)
ہمارا دین اسلام ہمیں مساوات کا درس دیتا ہے یعنی تمام انسانوں کے حقوق برابر ہیں۔ نہ کسی کالے کو گورے پر، نہ کسی امیر کو غریب پر، نہ کسی برادری کو دوسری برادریوں پر کوئی فضیلت حاصل ہے۔ کیونکہ ہمارا دین اسلام لوگوں کے درمیان ان کی نسل، رنگ، لباس، زبان کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں کرتا۔ اگر فرق کرتا ہے تو بس ان کے تقویٰ اور پرہیزگاری کے اعتبار سے۔
قرآنی تعلیم اور معیارِ فضیلت
جیسا کہ اللہ رب العزت قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ
ترجمہ: "بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔"
دیکھو! اس آیتِ مبارکہ میں اللہ رب العزت کی بارگاہ میں شرافت و فضیلت والا اس شخص کو گردانا گیا جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ اس آیتِ کریمہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ انسان کو اپنے حسن و جمال، مال و دولت، گاڑی و بنگلہ، حسب و نسب پر فخر نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ رب العزت …