اقامت کے لیے کب کھڑے ہونا چاہیے؟ صحیح شرعی مسئلہ

اقامت کے لیے کب کھڑے ہونا چاہیے؟ کیا شروع میں کھڑا ہونا بہتر ہے یا "حی علی الفلاح" پر؟ اس آرٹیکل میں صحیح شرعی مسئلہ اور علمائے کرام کی تحقیق پڑھیں۔
اقامت کے لیے کب کھڑے ہونا چاہیے؟ صحیح شرعی مسئلہ
✍️ قلمکار الماس نوری عطاری 📝 موضوع اقامت میں کب کھڑے ہونا چاہیے 🏢 ادارہ جامعۃ المدینۃ فیضان مخدوم لاہوری موڑاسا پیارے اسلامی بھائیو آج کے اس پر فتن اور ہوش ربا ماحول میں جہاں معاشیات کے نئے نئے مسائل پیش آ رہے ہیں وہیں عقائد و نظریات کو تبدیل کرنے کی بھی بہر پور کوشش کی جا رہی ہے اور سادہ لوح حنفی مسلمانوں کو اسلاف کے طرز فکر و عمل سے منحرف کرنے کے لیے حيرت انگیز نت نئی راہیں ہموار کی جا رہی ہیں جس کے نتیجے میں احکام شرعیہ سے ناواقفیت کی بنا پر سادہ لوح حنفی مسلمان اصول دین سے منہ پھیر کر فروعی مسائل میں الجھ رہے ہیں اس قسم کے مختلف فیہ فروعی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ اقامت کے وقت کھڑے ہونے کا بھی ہے۔ اہل سنت والجماعت بریلوی حضرات کا نظریہ یہ ہے کہ اقامت بیٹھ کر سننا چاہیے اور "حي علی الصلاۃ "یا "حي علی الفلاح" پر کھڑے ہونا چاہیے ، کھڑے کھڑے سننا مکروہ ہے جس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ اور صاحبین کا یہی مذہب اور معمول ہے اور ہم ان کے مقلد ہیں لہذا ان کے قول پر عمل کرنا ہمارے لیے ضروری ہے۔ اور دیوبندیوں کی اختراعی رائے یہ ہے کہ اقامت کھڑے ہو…

ایک تبصرہ شائع کریں